غزوات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خُلق عظیم

by Other Authors

Page 20 of 112

غزوات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خُلق عظیم — Page 20

20 "شاید تاریخ میں یہ پہلا موقعہ تھا کہ کسی لشکر کے ساتھ عورتیں نرسنگ کی خدمات اور زخمیوں کی دیکھ بھال کیلئے شامل ہو ئیں ورنہ اس سے پہلے جنگ میں عورت سے تحریض جنگ اور حظ نفس کے سوا کوئی کام نہیں لیا جاتا تھا۔عورت سے درست اور جائز خدمات لینے کے بارہ میں اب تک کسی نے نہ سوچا تھا کہ میدان جنگ میں تیمارداری اور بیماروں کی دیکھ بھال کی بہترین خدمت عورت انجام دے سکتی ہے۔" حیات محمد تالیف امیل در منغم صفحه ۲۵۱٬۲۵۰) اب آنحضرت میر جلد از جلد خیبر کا یہ کٹھن سفر طے کرنا چاہتے تھے۔آپ نے اپنے ساتھ مقدمہ الجیش میں تیز شتر سواروں کے دستہ کو چلنے کا حکم دیتے ہوئے فرمایا کہ آج ہم تیز چلیں گے کوئی اڑیل اونٹ اس میں نہ ہو۔پھر آپ نے ایک شاعر صحابی حضرت عامر کو فرمایا کیا تم ہمیں اپنے گیت نہیں سناؤ گے۔عرب شتر سوار اونٹوں کو تیز چلانے کیلئے ایک خاص راگ میں شعر کاٹ کر تیز تیز پڑھتے تھے۔جسے حدی کہتے ہیں۔عامر یہ شعر پڑھنے لگے۔اللَّهُمَّ لَوْلَا أَنْتَ مَا اهْتَدَيْنَا وَلَا تَصَّدَّقْنَا وَلَا صَلَّيْنَا فَاغْسِرُ فِدَاءً لَّكَ مَا أَبْقَيْنَا وَنَتِ الْأَقْدَامَ إِنْ لَاقَيْنَا لأولى قَدْ بَغَوْا عَلَيْنَا سَكِيْنَةٌ عَلَيْنَا فَالْقِينَ إذَا أَرَادُوا فِتْنَةً أَبَيْنَا وَنَحْنُ عَنْ فَضْلِكَ مَا اسْتَغَيْنَا (1- بخاری کتاب المغازی 11 تاریخ الخمیس جلد ۲ صفحه ۴۴)