غزوات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خُلق عظیم — Page 15
15 بھی بڑھایا گیا اور مناسب تنبیہ بھی کی گئی اور جب یہ کوششیں بے نتیجہ ثابت ہو ئیں تو خیبر کی طرف پیش قدمی کی گئی۔مصالحت کی کوشش :۔چنانچہ آنحضرت ام کو جب یہودی سازشوں کی اطلاع ہوئی تو آپ نے پہلے مصالحت سے اس فتنہ کو دبانے کی کوشش کی۔آپ نے یہود کو ایک خط میں لکھا کہ یہ خط موسیٰ علیہ السلام کے بھائی اور ان کی تعلیم کی تصدیق کرنے والے محمد می ای وی کی طرف سے یہود خیبر کے نام ہے۔اے یہود کے گروہ! تمہاری کتاب تورات میں مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللهِ وَالَّذِينَ مَعَهُ أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ (الفتح:۳۰) کی پیشگوئی موجود ہے۔میں تمہیں اس خدا کی قسم دے کر پوچھتا ہوں جس نے تم پر تورات اتاری، جس نے تمہارے آباؤ اجداد کو من و سلوئی عطا کیا اور سمندر خشک کر کے فرعون سے نجات بخشی۔سچ سچ بتاؤ کیا تمہاری کتاب میں یہ لکھا ہوا موجود نہیں کہ تم محمد ملی پر ایمان لانا۔اور یاد رکھو ہدایت و گمراہی کھل چکی ہے میں تمہیں اللہ اور رسول کی طرف بلاتا ہوں۔(ابن ہشام جلد ۲ صفحہ ۲۷۱) کیسا واضح اور خوبصورت اس خط کا مضمون ہے جو اظہار محبت و تبشیر اور انذار و تنبیہ کے حسین امتزاج کا مرقع ہے۔صلح کی آخری تجویز رسول اللہ علیم نے یہ کی کہ حضرت عبد اللہ بن رواحہ کو خیبر بھیجا تا یہود کے سردار امیر کو اس شرط پر بلا کر لائیں کہ خیبر میں اس کی حکومت تسلیم کر کے اس سے معاہدہ صلح کر لیا جائے۔امیر حضرت عبداللہ کے ساتھ روانہ ہوا راستہ میں اسے بد گمانی پیدا ہوئی اس نے حضرت عبداللہ کے ایک مسلمان ہمراہی کی تلوار چھیننا چاہی۔حضرت عبداللہ نے اس کی بدنیتی پر اسے قتل کر