غزوات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خُلق عظیم

by Other Authors

Page 104 of 112

غزوات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خُلق عظیم — Page 104

104 اپنی جان کا خطرہ ہے۔" حضرت عمیر نے اسے سمجھایا کہ نبی کریم ملی ام تمہارے تصور نے بھی کہیں زیادہ بہت احسان کرنیوالے اور حلیم و کریم ہیں ان کی عزت تمہاری عزت اور ان کی حکومت تمہاری حکومت ہے۔اس یقین دہانی پر صفوان نبی کریم میں ان کی خدمت میں حاضر ہوا اور پہلا سوال یہی دریافت کیا کہ کیا آپ نے مجھے امان دی ہے ؟ رسول خدا امی نے فرمایا ہاں میں نے تمہیں امان دی ہے۔صفوان نے عرض کیا کہ مجھے دو ماہ کی مہلت دے دیں (کہ اپنے دین پر قائم رہتے ہوئے مکہ میں ٹھہروں) نبی کریم میں نے چار ماہ کی مہلت عطا فرمائی اور یوں اپنے بدترین دشمن سے بھی اعلیٰ درجہ کا حسن سلوک کر کے خلق عظیم کی شاندار مثال قائم فرما دی۔(سیرت الحلبیہ جلد ۳ صفحه ۱۰۸ ابن هشام جز ۴ صفحه ۱۰۵) مگر بالا خر چند ہی دنوں میں آپ نے صفوان کا دل اپنے جود و سخا سے جیت لیا۔محاصرہ طائف سے واپسی پر جب حضور ایک وادی کے پاس سے گزرے جہاں نبی کریم میں کے مال شمس وفیئی کے جانوروں کے ریوڑ چر رہے تھے تو صفوان حیران ہو کر طمع بھری آنکھوں سے ان کو دیکھنے لگا حضور صفوان کو دیکھ رہے تھے۔پھر فرمایا اے صفوان! کیا یہ جانور تجھے بہت اچھے لگ رہے ہیں؟ اس نے کہا ہاں! آپ نے فرمایا جاؤ یہ سب جانور میں نے تمہیں بخش دیئے۔صفوان بے اختیار یہ کہہ اٹھا کہ خدا کی قسم! اتنی بڑی عطا اتنی خوش دلی سے سوائے نبی کے کوئی نہیں کر سکتا اور یہ کہہ کر اس نے وہیں اسلام قبول کر لیا۔( تاریخ الخمیس جلد ۲ صفحہ ۹۴) حارث اور زھیر کی معافی :۔حارث بن ہشام اور زحیر بن امیہ بھی عکرمہ اور صفوان کے ساتھیوں میں سے تھے جنہوں نے نبی کریم صلی اللہ کی امان قبول کر نیکی بجائے مزاحمت کرنے