غزوات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خُلق عظیم — Page 10
10 محاربت پر گرفت کرنے نکلے تو وہ بھی قلعہ بند ہو گئے اور بالاخر انہوں نے رحمتہ اللعالمین میں ایم کیو ایم کی بجائے حضرت سعد بن معاذ انصاری کو (جو اسلام قبل ان کے حلیف رہ چکے تھے ) اپنا فیصلہ کرنے کیلئے حکم مانا اور حضرت سعد نے یہودی شریعت کے مطابق بنو قریظہ کے لڑنے والے مردوں کو قتل اور عورتوں کو قیدی بنانے کا فیصلہ دیا۔(بخاری کتاب المغازی) بنو قریظہ اپنا فیصلہ رسول کریم ملی وی کے رحم و کرم پر چھوڑتے تو شاید وہ اس انجام کو نہ پہنچتے۔شمال اور جنوب کے فتنے : مدینہ کے اندرونی خلفشار کے دور ہو جانے کے بعد بھی اس زمانہ میں اسلام کے خلاف دو بڑے فتنے اندر ہی اندر پنپ رہے تھے اور کسی بھی وقت شمال اور جنوب کی سمتوں سے سر اٹھانے کو تیار تھے۔شمال کی جانب مدینہ سے صرف سو ڈیڑھ سو میل کے فاصلہ پر بڑا خطرہ خیبر اور اس کے ماحول میں بسنے والے یہود کی طرف سے تھا اور جنوب کی طرف سے پیش آنے والا خطرہ قریش مکہ کا تھا جو بعض جنگجو مشرک عرب قبائل کو ساتھ ملا کر مسلمانوں کے خلاف ایک فیصلہ کن حملہ کی تیاری کر رہے تھے۔سنہ ۶ھ میں صلح حدیبیہ کے ذریعہ قریش مکہ کی طرف سے حملہ کا خطرہ وقتی طور پر ٹل گیا اور اللہ تعالٰی نے مسلمانوں کو شمال کی طرف سے نمودار ہونے والے یہود خیبر کے خطرہ سے نبٹنے کیلئے فارغ کر دیا۔فتح حدیبیہ سے واپسی پر آنحضرت مال کو فتح خیبر اور مال غنیمت کا وعدہ دیا گیا تھا۔جس سے سرولیم میور نے کلام الہی کی پیشگوئیوں کو نہ سمجھنے اور ان کو عقل کے پیمانوں سے ناپنے کی وجہ سے دھوکا کھایا۔وہ اپنی کتاب " لائف آف محمد" میں لکھتا ہے کہ حدیبیہ سے واپسی پر محمد متی ) نے اپنے (