خدا کی قسم — Page 7
7 جِئْتَ بِهِ وَأَنَا رَسُولُ مَنْ وَرَائِي مِنْ قَوْمِي وَأَنَا ضِمَامُ بْنُ ثَعْلَبَةَ أَخُو بَنِي سَعْدِ بْنِ بَكْرٍ ( صحیح بخاری شیف مترجم جلد اوّل صفحہ 135-134 اعتقاد پبلشنگ ہاؤس نئی دلی 110002۔سن 1990ء) انس بن مالک سے عناوہ کہتے تھے کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک شخص اونٹ پر سوار ہو کر آیا۔اور اسے مسجد ( کے احاطے ) میں بٹھلا دیا۔پھر اسے (رضی سے ) باندھ دیا۔اس کے بعد پوچھنے لگا تم میں سے محمد گون ہے؟ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کے درمیان تکیہ لگائے بیٹھے تھے ، اس پر ہم نے کہا یہ صاحب سفید رنگ جو تکیہ لگائے ہوئے ہیں تو اس شخص نے کہا اے عبد المطلب کے بیٹے ! نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں کہو ) میں جواب دوں گا اس پر اس نے کہا کہ میں آپ سے کچھ پوچھنے والا ہوں اور اپنے سوالات میں ذراشرت سے کام لوں گا۔تو آپ میرے اوپر کچھ ناراض نہ ہوں۔آپنے فرمایا پوچھو جو تمہاری سمجھ میں آئے وہ بولا کہ میں آپ کو اپنے رب کی ، اور آپ سے پہلے لوگوں کے رب کی قسم دیتا ہوں ( سیچ بتائے کیا اللہ نے آپ کو تمام لوگوں کی طرف اپنا پیغام پہنچانے کیلئے بھیجا ہے؟ آپ نے فرمایا اللہ جانتا ہے کہ ہاں ( یہی بات ہے ) پھر اسنے کہا میں آپ کو اللہ کی قسم دیتا ہوں ( بتائیے ) کیا اللہ نے آپ کو دن رات میں پانچ نمازیں پڑھنے کا حکم دیا ہے؟ آپ نے فرمایا کہ اللہ جانتا ہے کہ ہاں (یہی بات ہے) پھر وہ بولا میں آپ کو اللہ کی قسم دیتا ہوں ( بتلائیے ) کیا اللہ نے سال میں اس ( رمضان ) کے مہینے کے روزے رکھنے کا حکم دیا ہے؟ آپ نے فرمایا اللہ جانتا ہے کہ ہاں (یہی بات ہے ، پھر وہ بولا میں آپ کو اللہ کی قسم دیتا ہوں ، کیا اللہ نے آپ کو یہ حکم دیا ہے کہ ہمارے مالداروں سے صدقہ لے کر ہمارے غرباء کو تقسیم کر دیں؟ آپ نے فرمایا اللہ جانتا ہے کہ ہاں (یہی بات ہے )۔اس پر اس شخص نے کہا کہ جو کچھ اللہ کی طرف سے احکام) آپ لے کر آئے ہیں، میں ان پر ایمان لایا اور میں اپنی قوم کا جو پیچھے رہ گئی ہے، ایلچی ہوں۔میں ضام ہوں تثعلبہ کا لڑکا بنی سعد بن بکر کے بھائیوں میں سے ہوں۔“ (صفحه ۶۲، ۱۳۲۱،۶۳، ۲۹،۷) بخ دوسری طرف حدیث نبوی میں یہ وعید بھی آئی ہے کہ الْيَمِينُ الْفَاجِرَةُ تَدَعَ الدَّيَارَ بلَاقِعَ(مسند الشهاب باب الیمین)۔کہ جھوٹی قسم علاقوں کو تباہ و برباد کر دیتی ہے یعنی جھوٹی قسم کھانے