خدا کی قسم

by Other Authors

Page 36 of 40

خدا کی قسم — Page 36

36 36 حکم 31 مئی 1902ء میں حلفاً کہتا ہوں کہ میرے دل میں اصلی اور حقیقی جوش یہی ہے سو تمام محامد اور مناقب۔۔۔۔اور تمام صفات جمیلہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف رجوع کروں۔میری تمام تر خوشی اسی میں ہے اور میری بعثت کی اصلی غرض یہی ہے کہ خدا تعالیٰ کی توحید اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت دنیا میں قائم ہو۔میں یقیناً جانتا ہوں کہ میری نسبت جس قدر تعریفی کلمات اور تجھیدی باتیں اللہ نے بیان فرمائی ہیں، یہ بھی در حقیقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی طرف راجع ہیں۔اس لئے کہ میں آپ کا غلام ہوں اور آپ ہی کے مشکوۃ نبوت سے نور حاصل کرنے والا ہوں اور مستقل طور پر ہمارا کچھ بھی نہیں۔اس سبب سے میرا یہ پختہ عقیدہ ہے کہ اگر کوئی شخص آنحضرت صلعم کے بعد یہ دعوی کرے کہ میں مستقل طور پر بلا استفاضہ حضور صلعم سے مامور ہوں اور خدا تعالیٰ سے تعلق رکھتا ہوں تو وہ مردود اور مخذول ہے۔خدا تعالیٰ کی ابدی مہر لگ چکی ہے اس بات پر کہ کوئی شخص وصول الی اللہ کے دروازہ سے آنہیں سکتا بجز اتباع آنحضرت صلعم کے“ احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک (حصہ اول) از قاضی محمد نذیر صاحب فاضل (الحلم 31 مئی 1902ء) اللہ تعالیٰ قرآن میں یہود کو مخاطب کر کے فرماتا ہے: قُلْ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ هَادُوا إِنْ زَعَمْتُمْ أَنَّكُمْ أَوْلِيَاء لِلَّهِ مِنْ دُونِ النَّاسِ فَتَمَنَّوُا الْمَوْتَ إِنْ كُنتُمْ صَادِقِينَ (الجمعة 7) ترجمہ : اے رسول کہہ دے اے لوگو ! جو یہودی ہوئے اگر تمہارا یہ دعویٰ ہے کہ تم اللہ کے پیارے ہو سوائے ان لوگوں کے (جو مسلمان ہیں ) تو تم موت کی تمنا کرو اگر تم صادق ہو۔اس آیت سے ظاہر ہے کہ موت کی تمنا کرنے والا اگر اس تمنا کے بعد جلد ہلاک ہونے سے بیچ جائے تو یہ امر اس بات کی صداقت پر گواہ ہو گا۔اگر کوئی غلط فہمی سے اپنے آپ کو خدا کا پیارا سمجھتا ہو