خُوبصورت یادیں — Page 9
خاتون صالحہ 9 لجنہ اماء دوران خوش المانی سے قرآنی دعائیں پڑھا کرتی تھیں۔جوانی کی عمر سے تہجد گزار تھیں رات کا بیشتر حصہ شب بیداری میں گزارتی تھیں اور جب خلیفہ المسیح الرابع ایدہ اللہ تعالی پاکستان سے تشریف لے گئے تو ان کی کامیابی سے مراجعت کے لئے نہایت دردمندانہ انداز میں دعا میں مصروف رہیں۔خوش قسمتی سے والدہ صاحبہ کو ایسی ذات کی رفیقہ رفیق حیات حیات بننے کا شرف حاصل ہوا جن کے تعلقات حضرت خلیفہ المسیح الثانی سے دوستانہ تھے۔والد صاحب ڈاکٹر غلام علی صاحب ہاشمی مرحوم نے قادیان میں بورڈنگ ہاؤس میں رو کر میٹرک تک تعلیم حاصل کی تھی اور والد مرحوم حضرت خلیفہ المسیح الاول" کے ترجمتہ القرآن و تفسیر کے درسوں میں مکرم سید صاحبزادہ عبدالحی صاحب اور حضرت خلیفہ المسیح الثانی کے ہمراہ شامل ہوا کرتے تھے۔اس طرح والد صاحب کو حضرت خلیفہ المسیح الاول سے ترجمہ قرآن مجید اور تفسیر سمجھنے کی سعادت نصیب ہوئی اور بعد میں انہوں نے ہماری والدہ محترمہ زینب بیگم اور بچوں کو ترجمہ سکھانے کا سلسلہ جاری رکھا۔حضرت خلیفہ المسیح الاول کے بشارتی کشف اور دعائے خاص کا تذکرہ والد صاحب ہم سے ان واقعات کا ذکر بھی کیا کرتے تھے جن کا حضرت خلیفہ المسیح الاول کے درسوں میں تذکرہ ہو تا تھا۔وہ خد اتعالیٰ کے احسانوں کا ذکر کرتے ہوئے حضرت خلیفہ المسیح الاول کے ایک کشفی نظارہ کا بھی ذکر کیا کرتے تھے جس میں اس دن درس میں شامل افراد کے متعلق بہشتی ہونے کی خبر تھی۔والد صاحب اس در یں اور دعائے خاص