خُوبصورت یادیں — Page 58
58 نجنہ اماء اللہ لاہور ہدایات لینے تقریباً کئی ہفتہ پہلے ہی روزانہ جاتی تھیں اور پھر ووٹروں کی تربیت کے مطابق حلقہ وار لسٹوں کی تیاری اور مستورات کا ووٹ بھگتانے کے طریقہ وغیرہ کے سلسلہ میں حضور کی ہدایت کے مطابق ٹریننگ حاصل کر کے تمام صدریں اپنے اپنے حلقہ میں گھر گھر جاکر ووٹروں کو ووٹ ڈالنے کا طریق کار سمجھائیں اور جلسہ جات منعقد کر کے ریہرسل کروائیں۔اور ساتھ ساتھ باوقار انداز سے تنظیم کے مطابق ووٹ بھگتانے کی تربیت دیتیں اور ایک ایک ووٹ کی اہمیت کا احساس دلواتیں چنانچہ مستورات کا جوش و خروش قابل دید وستائش تھا۔پولنگ اسٹیشن ریتی چھلہ میں قائم کیا گیا تھا۔حضور نے بنفس نفیس انتظامات دیکھنے کے لئے سینٹر کا دورہ فرمایا کہ پروگرام کے ماتحت تمام حلقہ جات کی ممبرات کو الیکشن سینٹر صبح و بجے پہنچنا تھا۔تمام صدروں کو ہدایت تھی کہ وہ اپنے اپنے حلقہ کا جھنڈہ ہاتھ میں لے کر اور تمام نمبرات کو ایک قطار کی صورت میں تنظیم اور وقار کے ساتھ ایکشن سینٹر کی طرف لے کر آئیں کوئی بے ترتیبی نہ ہو تا مخالف یا مد مقابل کسی قسم کی بات نہ اچھال سکیں۔غرضیکہ اس دن نظارہ دیکھنے والا تھا۔برقعہ پوش عورتیں جھنڈے کی معیت میں قطاروں کی صورت میں گھروں سے نکل کر جب سڑکوں پر نمودار ہو ئیں تو مخالفین مستورات کا اس فوجی تنظیم کا نظارہ دیکھ کر کہہ اٹھے کہ آج تو قادیان والے جیت جائیں گے اور مد مقابل حریف بھی بو کھلا گئے کہ آج یہ برقعہ پوش عورتوں کی ڈار جینے نہیں دے گی۔غرضیکہ انداز ا ایک ہی وقت میں چاروں طرف سے پہنچنا ایک عجیب نظارہ پیش کرتا تھا گویا کہ "ریتی چھلہ " ایک سورج کی طرح