خُوبصورت یادیں — Page 52
خاتون صالحه 52 ہو جاتی ہے۔اور پھر بھی یہ فریضہ پورا ہونے کو نہیں آتا۔خالہ جان کی عظمت اور کردار کی پختگی کا اندازہ اس بات سے لگتا ہے کہ اس کا سہارا ان کی جوانی میں ہی سر سے اٹھ گیا تھا لیکن اس کے باوجود بھی ہم نے بچپن سے یہ دیکھا ہے اور دوسرے لوگوں سے سنا ہے کہ یہ عظیم اور شاکر و صابر عورت ہر وقت اسی پریشانی میں ہوتی کہ کسی طرح سے اس کا مفید وجود بیواوں۔قیموں۔محتاجوں۔غریبوں اور مریضوں کے کام آجائے۔اس نیک خواہش کو پورا کرنے کے لئے یہ عظیم خاتون اکثر و بیشتر اپنے محلہ اور دور دراز کے محلوں اور حلقوں میں ایک مجاہدہ کی حیثیت سے اللہ تعالیٰ کا نام لے کر نکل جاتیں اور واپس کبھی بھی خالی ہاتھ نہ لوٹیں۔ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ہزاروں ضرورت مندوں نے خالہ جان کی سخاوت اور نیکیوں سے فیض یابی حاصل کی۔آپ نہایت ہی مخلص - نیک اور ہمدرد خاتون تھیں۔جماعت کی ذمہ داریوں کو بھی بخوبی نبھایا اور خدمت کرتے وقت محض خلوص اور سلسلہ سے گہری وابستگی کا اظہار نمایاں ہوتا اور دوسروں کو بھی خلوص۔نیکی اور ہمدردی اور خدمت کا انعام انکی زندگی میں دیا۔ماشاء اللہ اولاد در اولاد کو اپنی آنکھوں کے سامنے ایک لمبے عرصہ تک پھلتے پھولتے دیکھا اور خدا نے نهایت ہی مخلص ہمدرد اور خدمتگار اولاد سے نوازا۔اللہ تعالٰی خالہ جان کو جنت میں اعلیٰ درجات سے نوازے اور انکی اولاد در اولاد کو اخلاص - ہمدردی۔کردار اور دین ودنیا کی بقاء نوازے رکھے اور ہم سب کو ان کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق بخشے (آمین) ہور