خُوبصورت یادیں

by Other Authors

Page 42 of 65

خُوبصورت یادیں — Page 42

خاتون صالحہ 42 لجنہ اماء اللہ لاہور قرآن مجید کا ترجمہ پڑھاتے اور درس دیتے جس میں والدہ صاحبہ اور افراد خانہ بھی شامل ہوتے۔دہلی چھاؤنی میں قیام کے دوران بھی تین چار افراد کو والد صاحب تبلیغ سے احمدیت قبول کرنے کی توفیق علی جو کہ اسی طرح روزانه با قاعدگی سے صبح کی نماز میں شامل ہونے کے لئے ہمارے گھر پر تشریف لاتے بعد ازاں قرآن مجید کا ترجمہ سیکھتے اور دریں سے استفادہ حاصل کرتے اور جمعہ کی نماز بھی ہمارے ہاں ہی ادا کرتے کیونکہ والد صاحب نے اپنے گھر میں ہی سینٹر بنایا ہوا تھا۔اور حضور کی طرف سے مرکز سے ہر قسم کی اطلاعات و ہدایات اسی سینٹر میں موصول ہوا کرتی تھیں ان دنوں سائیکل سوار سیاح قریشی عبد اللطیف بنگال کا دورہ کرتے ہوئے واپسی پر ہمارے اسی سینٹر میں چند دن قیام پذیر ہوئے ۱۹۴۰ء میں پھر محترم قریشی عبداللطیف صاحب میری شادی کے بعد قائد صاحب کی قیادت کے زمانہ میں کسی حلقہ کے خدام الاحمدیہ کے جلسے میں شریک ہوئے وہاں تذکرہ ہوا کہ قائد کی بیگم کا شکوہ سنا نہیں گیا کہ قائد صاحب صبح بھی دفتر جانے سے پہلے ایک دو حلقوں کا دورہ کرنے چلے جاتے ہیں اور شام کو بھی رات گئے تک حلقہ جات میں مصروف رہتے ہیں جس پر محترم سیاح صاحب نے فرمایا کہ یہ خدمت کرنے والے باپ کی بیٹی ہے اس کا کردار ایسا ہی ہونا تھا قائد صاحب قریشی محمود احمد صاحب نے گھر آکر اس کا تذکرہ عاجزہ سے کیا دہلی میں والد صاحب کے ذریعہ احمدی ہونے والے افراد میں سے ایک محترم مکرم فہیم اللہ صاحب ہیں جنہوں نے (غالبا ریٹائر ہونے کے بعد) پارٹیشن کے بعد مرکز قادیان میں رہائش