خُوبصورت یادیں — Page 45
خاتور 45 لجنہ اماء الله لاہور حضرت خلیفہ المسیح الثانی کے فیوض سے نہ صرف ہمارے والدین فیض یاب ہوتے رہے بلکہ ان کی اولادیں بھی حصہ پا رہی ہیں۔چنانچہ جب محترم وکیل صاحب قائد قریشی محمود احمد ہاشمی (ایڈووکیٹ سپریم کوٹ پاکستان) نے جب B۔A کا امتحان پاس کیا تو امی جان نتیجہ نکلنے کے بعد حضور ایدہ اللہ تعالیٰ کی خدمت میں مٹھائی کا ڈبہ پیش کرنے کے لئے قصر خلافت میں حرم محترم کی خدمت میں علی الصبح جا پہنچیں۔اس وقت حضور ناشتہ فرما رہے تھے پوچھنے پر کہ یہ مٹھائی کیسی ہے تو امی جان نے عرض کیا کہ محمود احمد کے بی۔اے میں (B۔A) پاس ہونے کی ہے تو حضور امی جان سے مخاطب ہو کر فورا فرمانے لگے کہ علم میں آیا کہ آج B۔A کے رزلٹ نکلنے کا ریڈیو پر اعلان ہو رہا ہے (کیونکہ ان دنوں ریزلٹ کا اعلان ریڈیو سے ہوا کرتا تھا تو میں نے ریزلٹ سننے کے لئے ریڈیو کھولا کہ اپنے محمود نے بھی B۔A کا امتحان دیا ہوا ہے نتیجہ سن لوں سو جب محمود احمد کا رول نمبر بولا گیا تو پھر میں اٹھ گیا پھر امی کو مخاطب ہو کر فرمانے لگے کہ آپ کو بہت مبارک ہو محمود کے پاس ہونے کی۔قائد صاحب ہاشمی کی والدہ ہماری پنچھی لگتی تھیں قائد صاحب کے والد محترم حافظ حکیم محمد الدین ہاشمی مرحوم صحابی جو ابتدائی مومیان میں سے تھے ابتداء سے ہی حضرت مسیح موعود ------ حضرت خلیفہ المسیح اول اور حضرت خلیفۃ المسیح الثانی سے قریبی ذاتی تعلقات کے ساتھ ساتھ عقید تمندی کے جذبہ سے سرشار تھے اور پھوپھی جان محترمہ رابعہ بی بی صاحبہ فرمایا کرتی تھیں کہ جلسہ سالانہ کے ایام میں حضرت