خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 83 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 83

۸۳ مجلس مشاورت ۱۹۴۴ء خطابات شوری جلد سوم یہ وہ یقین اور ایمان ہے جس کے ماتحت کام کرنے والے کامیاب ہو سکتے ہیں اور اسی قسم کا ایمان رکھنے والے مخلص نوجوان ہمیں درکار ہیں۔ضرورت اس امر کی ہے کہ زمیندارہ کام سے دلچپسی رکھنے والے نوجوان آگے بڑھیں اور اپنی زندگیاں سلسلہ کے مفاد کے لئے وقف کردیں۔امداد گندم ان تحریکات کے علاوہ ایک اور تحریک میں ابھی کر دینا چاہتا ہوں جس کا تعلق جماعت کے غرباء کے ساتھ ہے۔میں گزشتہ دوسال سے غرباء کے لئے غلہ جمع کرنے کی تحریک کرتا چلا آرہا ہوں اور میں دیکھتا ہوں کہ اس سال بھی ویسے ہی ضرورت ہے جیسا کہ گزشتہ سالوں میں تھی۔اگر جماعتیں اپنے اوپر یہ فرض قرار دے لیں کہ ہر دو مربع زمین والا ایک من غلہ غرباء کے لئے دیا کرے گا تو میں سمجھتا ہوں یہ ایک ایسا ٹیکس ہے جس سے دو ہزار من غلہ بڑی آسانی سے جمع ہو سکتا ہے۔ہماری جماعت کی بہت بڑی تعداد زمینداروں پر پرمشتمل ہے اور میرا اندازہ یہ ہے کہ پنجاب اور سندھ میں ہماری جماعت کے پاس دو ہزار مربع زمین ہو گی۔اس دو ہزار مربع زمین کا اگر چوتھا حصہ بھی گندم کے لئے مخصوص کر لیں تو اس کے معنے یہ ہوں گے کہ پنجاب اور سندھ میں ہماری جماعت کی طرف سے پانچ سو مربع زمین گندم کاشت کی جاتی ہے۔پانچ سو مربع کے معنے ساڑھے بارہ ہزار ایکڑ کے ہیں۔فی ایکڑ اگر بارہ من بھی ہم گندم کی پیدا وار سمجھ لیں تو ایک لاکھ پچاس ہزار من گندم ہو گئی۔یہ اتنی بڑی مقدار ہے کہ اگر جماعت کے دوست چھپتر من پر بھی ایک من گندم دے دیں تب بھی دو ہزار من غلہ قادیان کے غرباء کے لئے بڑی سہولت سے جمع ہو سکتا ہے۔میں تسلیم کرتا ہوں کہ سب لوگ اس تنظیم میں شامل نہیں ہو سکتے لیکن پھر بھی اگر دیانتداری اور محنت سے کام کیا جائے اور غرباء کی اعانت کا خیال رکھا جائے تو منٹگمری ، شیخوپورہ، سرگودھا ، لائل پور اور ملتان یہ پانچ اضلاع ہی آٹھ نو سو من غلہ بغیر کسی قسم کا بوجھ محسوس کرنے کے دے سکتے ہیں۔اسی طرح سندھ کے احمدی اگر کوشش کریں تو وہ بھی اس تحریک میں نمایاں حصہ لے سکتے ہیں۔سندھ میں ایک مشکل ہے جو پنجاب میں نہیں کہ وہاں بڑے بڑے زمیندارمل کر دوسروں سے کام کراتے ہیں اور اُن کی فصل کا ایک حصہ ہاریوں کومل جاتا ہے لیکن پھر بھی اگر وہ زیادہ حصہ نہ لے سکیں تو چار سو من غلہ آسانی سے دے