خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 82 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 82

خطابات شوری جلد سوم ۸۲ مشاورت ۱۹۴۴ء سے خوب واقفیت رکھتے ہوں تو خدا تعالیٰ کے فضل سے تحریک جدید کی آمد کئی گنا سالا نہ بڑھ سکتی ہے اور اس آمد سے ۲۵ لاکھ روپیہ کا ریز رو فنڈ بھی آسانی کے ساتھ قائم کیا جاسکتا ہے۔میں نے اندازہ لگایا ہے کہ اگر ہم پانچ ہزار مبلغ رکھیں تو ہمیں دو کروڑ روپیہ سالانہ کی ضرورت ہوگی اور اگر ہم دو سو مبلغ رکھیں تو لٹریچر وغیرہ کے اخراجات شامل کر کے دس لاکھ روپیہ سالانہ کی ضرورت ہو گی۔مگر اتنا روپیہ ابھی ہمارے پاس نہیں لیکن بہر حال اگر آج نہیں تو آج سے چند سال بعد یہ بوجھ جماعت کو برداشت کرنا پڑے گا کیونکہ اس کے بغیر ساری دنیا میں کبھی تبلیغ اسلام نہیں ہو سکتی۔اور جبکہ ہم نے ہی اس بوجھ کو اٹھانا ہے خواہ آج اٹھا ئیں یا آج سے چند سال بعد تو اس کی ایک ہی صورت ہو سکتی ہے کہ ہم اپنی زمینوں کی آمد کو بڑھانے کی کوشش کریں مگر سندھ میں یہ حالت ہے کہ اگر دوسرا زمیندار ایک روپیہ کماتا ہے تو تحریک جدید کے ماتحت کام کرنے والا دو آنے کماتا ہے۔اس کی وجہ محض یہ ہے کہ سندھ میں ہمیں کام کرنے والے ابھی تک ایسے لوگ نہیں ملے جو اپنے فرض کو پوری محنت کے ساتھ سر انجام دینے والے ہوں۔دوسرے زمیندار وقت پر ہل چلاتے ہیں، وقت پر پانی دیتے ہیں اور پھر فصل کی خوب نگرانی کرتے ہیں اور وقت پر کٹائی کرتے ہیں مگر سندھ میں ہماری جماعت کے بعض آدمیوں نے ایسا گندہ نمونہ دکھایا ہے جو نہایت ہی قابلِ افسوس ہے۔وہ آپس کے لڑائی جھگڑوں میں ہی مصروف رہے اور سلسلہ کا ہزاروں روپیہ کا نقصان ہو گیا۔پس ہمیں اس وقت شدید ترین ضرورت ایسے لوگوں کی ہے جو سلسلہ کے لئے اپنی جانیں وقف کریں اور اس ایمان اور یقین کے ساتھ سلسلہ کی زمینوں پر کام کریں کہ وہ شخص جو سلسلہ کی خاطر ہل چلاتا ہے، وہ شخص جو سلسلہ کی خاطر بیج ڈالتا ہے، وہ شخص جو سلسلہ کی وہ س خاطر کھیت کو پانی دیتا ہے، وہ شخص جو سلسلہ کی خاطر فصل کی نگرانی کرتا ہے، وہ شخص جو سلسلہ کی خاطر فصل کی بر وقت کٹائی کرتا ہے اور وہ شخص جو سلسلہ کی خاطر زیادہ سے زیادہ فصل پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے ہرگز اپنے درجہ کے لحاظ سے اُس مبلغ سے کم نہیں ہے جو امریکہ یا انگلستان میں بیٹھا تبلیغ اسلام کا فرض سرانجام دے رہا ہے کیونکہ اس کی قربانی سے سلسلہ کی آمد میں اضافہ ہوگا۔اور سلسلہ کی آمد میں اضافہ ہونے سے تبلیغ کو وسیع کیا جا سکے گا اور اس طرح جس قدر مبلغ رکھیں جائیں گے اُن سب کے ثواب میں وہ حصہ دار اور شریک ہوگا۔