خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 79 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 79

خطابات شوری جلد سوم ۷۹ مشاورت ۱۹۴۴ء یہ خیال نہیں کرنا چاہئے کہ مشاہدات کو کس طرح بدلا جا سکتا ہے کیونکہ جیسا کہ میں نے بتایا ہے کہ جن امور کو مشاہدہ قرار دیا جاتا ہے بالعموم وہ مشاہدہ نہیں ہوتا بلکہ نظر یہ ہوتا ہے۔اگر سو واقعات وہ پیش کریں گے تو اُن میں سے نوے نظریے ہوں گے اور دس واقعات ہوں گئے اور جبکہ نوے فیصدی حملے محض نظریوں کی بناء پر ہوتے ہیں۔تو جن دلائل سے وہ ایک نتیجہ پر پہنچتے ہیں اگر اُن کے خلاف بعض اور دلائل مہیا کر دیے جائیں تو لازماً دوسرا نتیجہ پیدا ہو جائے گا۔یہی وجہ ہے کہ تھیوریاں ہمیشہ بدلتی چلی جاتی ہیں۔آج سے دس سال پہلے اور نظریے تھے اور آج اور نظریے ہیں لیکن یہ نظریے خواہ کس قدر غلط اور بے بنیاد ہوں جب ان کو بار بار پیش کیا جاتا ہے تو نوجوان ڈر جاتے ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ غالبا یہ نظریہ نہیں بلکہ ایک ثابت شدہ حقیقت ہے۔اگر ہمارے آدمی بھی اسلامی مسائل کی روشنی میں غور کرتے اور وہ اسلام کی تائید میں مختلف نظریات پیش کرتے تو لوگوں کو دو آوازیں اُٹھتی سُنائی دیتیں۔اور وہ کہتے بعض پروفیسروں کا یہ نظریہ ہے جو اسلام کے خلاف ہے اور بعض پروفیسروں کا وہ نظریہ ہے جو اسلام کی تائید میں ہے، تب نو جوانوں کو ایک راستہ نظر آ جاتا اور وہ سمجھتے کہ ڈر کی کوئی وجہ نہیں۔ہم اسلام کے خلاف لوگوں کی پیدا کردہ مشکلات کا حل سوچ سکتے ہیں۔ہم اسلام کو سچا ثابت کر سکتے ہیں کیونکہ اسلام کے خلاف محض ایک نظریہ پیش کیا جا رہا ہے جسے ایک دوسرا نظریہ رڈ بھی کر رہا ہے۔واقعہ یہ ہے کہ اسلام کے خلاف دنیا کے اعتقادات سو فیصدی اُن بنیادوں پر قائم ہیں جو کسی مشاہدہ کا نتیجہ نہیں بلکہ نظریوں کا نتیجہ ہیں۔مگر چونکہ تمام کالجوں میں سے ایک ہی قسم کی آوازیں اُٹھتی ہیں۔دیال سنگھ کالج کے پروفیسر بھی یہی کہتے ہیں، میڈیکل کالج کے پروفیسر بھی یہی کہتے ہیں، گورنمنٹ کالج کے پروفیسر بھی یہی کہتے ہیں اس لئے لوگ سمجھتے ہیں کہ جب سارے پروفیسر فلاں بات کی تائید کر رہے ہیں تو وہ محض نظر یہ نہیں ہو سکتا بلکہ ثابت شُدہ واقعہ ہو گا۔یہ چیز تبھی دُور ہو سکتی ہے جب ہمارا اپنا کالج ہو اور ہمارے پروفیسر ان علوم پر اِس رنگ میں غور کریں کہ یہ کہاں تک اسلام کی تائید میں پیش کئے جا سکتے ہیں۔اُنہوں نے ان علوم کا استعمال اسلام کے خلاف کیا لیکن ہمارا فرض یہ ہے کہ ہم ان علوم کو اسلام کی تائید اور اس کی صداقت میں پیش کر یں۔اور چونکہ ہمارے پاس سچائی ہے