خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 77
خطابات شوری جلد سوم مشاورت ۱۹۴۴ء تو صرف وہی لوگ اس میں حصہ لینے سے محروم رہیں گے جن کے دلوں میں دینی کاموں کی کوئی اہمیت نہیں ہوگی باقی تمام افراد اس میں شریک ہو جائیں گے۔جس طرح صدقۃ الفطر میں ہر مرد اور ہر عورت اور ہر بچہ حصہ لیتا ہے اسی طرح جماعت کے افراد کو چاہئے کہ وہ اس تحریک کو اس قدر عام کریں اور اس قدر منظم طور پر افراد جماعت تک پہنچائیں کہ کوئی ایک شخص بھی اس ثواب میں حصہ لینے سے محروم نہ رہے۔اگر کسی سے صرف ایک آنہ ملتا ہے تو ایک آنہ لے لو۔اگر کوئی دھیلا دیتا ہے تو اُس دھیلے کو خوشی سے قبول کر لو۔اس طرح ہر مرد اور ہر عورت سے چندہ وصول کر کے جلد سے جلد مرکز میں بھیجوانے کی کوشش کرو۔اور جن لوگوں کے پاس روپیہ موجود نہ ہو اُن سے وعدے لے کر بھجوا دو اور پھر کوشش کرو کہ چار یا پانچ ماہ میں اُن کے وعدے پورے ہو جائیں۔مگر اس کے یہ معنے نہیں ہیں کہ اگر کوئی شخص زیادہ دینا چاہے تو اُس سے زیادہ نہ لو۔اگر کسی شخص کو خدا تعالیٰ نے زیادہ حصہ لینے کی توفیق عطا فرمائی ہے تو اُس کا فرض ہے کہ وہ اپنی طاقت کے مطابق اس تحریک میں حصہ لے اور تھوڑے ثواب پر قناعت کرنے کی کوشش نہ کرے۔کالج میں تعلیم کیلئے لڑکے بھجوائیں اس کے ساتھ ہی میں دوستوں کو اس امر کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ وہ جہاں تک ہو سکے کالج میں تعلیم حاصل کرنے کے لئے باہر سے زیادہ سے زیادہ لڑکوں کو بھجوانے کی کوشش کریں۔میرا اندازہ یہ ہے کہ ہماری جماعت کے کم سے کم پانچ چھ سولڑ کے پنجاب کے مختلف کالجوں میں تعلیم حاصل کرتے ہیں۔اگر ان لڑکوں کا اکثر حصہ ہمارے کالج میں داخل ہو جائے تو اگلے سال یا اگلے سے اگلے سال ہم اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس بات میں کامیاب ہو سکتے ہیں کہ بی اے کی کلاسز کھول دیں۔حقیقت یہ ہے کہ بہت بڑا زہریلا اثر ہے جو بیرونی کالجوں کے ذریعہ نوجوانوں کے قلوب میں پیدا کیا جا رہا ہے۔اگر ہماری جماعت کے دوست اس زہر کی اہمیت کا احساس کریں تو میں سمجھتا ہوں اُن کی کوششیں موجودہ حالت سے بہت بڑھ جائیں اور وہ پورے زور سے اس کالج میں اپنے لڑکوں کو بھجوانے کی کوشش کریں۔ہزاروں قسم کے اعتراضات ہیں جو اسلام کے خلاف کئے جاتے ہیں۔اور ان کی