خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 76
خطابات شوری جلد سوم مجلس مشاورت ۱۹۴۴ء وہ ان میں سے کسی ایک کو بھی وقف کر سکتے ہیں لیکن وہ جن کے پاس جائیدادیں نہیں ہیں انہیں بہر حال اپنی آمدنیوں کو وقف کر کے اس تحریک میں شامل ہونا چاہئے۔چندہ برائے کالج اس کے بعد میں کالج کے چندہ کی طرف جماعت کو توجہ دلاتا ہوں۔سیکر ٹریانِ جماعت کو چاہئے کہ وہ لوگوں سے چندہ وصول کر کے قادیان میں بھجوائیں۔ہم نے قرض لے کر اس کام کو شروع کر دیا ہے لیکن چونکہ قرض کو جلد ادا کرنا ضروری ہے اس لئے میں نے جماعت سے ڈیڑھ لاکھ روپیہ چندہ کا مطالبہ کیا ہے۔میں سمجھتا ہوں موجودہ زمانہ میں ڈیڑھ لاکھ روپیہ مہیا کرنا ہماری جماعت کے لئے کوئی بڑی بات نہیں۔اگر ڈیڑھ سو ایسے دوست کھڑے ہو جائیں جو ایک ایک ہزار روپیہ اس چندہ میں دے دیں تو یہ رقم فورا پوری ہو سکتی ہے بلکہ اور لوگوں کے چندوں کو ملا کر یہ رقم اس سے بھی زیادہ ہوسکتی ہے۔ہمارے گھر کا چندہ ہی اِس وقت تک ۱۵ ہزار سے اوپر ہو چکا ہے، اور ممکن ہے یہ سترہ اٹھارہ بلکہ بیس ہزار روپیہ تک پہنچ جائے۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہماری جماعت کو جو وسعت حاصل ہے اس کے لحاظ سے میں سمجھتا ہوں کہ ہزار ہزار دو دو ہزار چندہ دینے والے کافی تعداد میں میسر آ سکتے ہیں۔اگر صحیح طور پر کوشش کی جائے تو پانچ چھ سو ایسے افراد مہیا ہو سکتے ہیں۔لیکن اگر اتنی بڑی تعداد مہیا نہ ہو تو بھی سو دو سو آسانی سے ایسے دوست مل سکتے ہیں جو اس بوجھ کو اٹھا لیں لیکن میں یہ نہیں چاہتا کہ اس چندہ میں وہی حصہ لے جو امیر ہو بلکہ میں چاہتا ہوں کہ ہر شخص اس چندہ میں حصہ لے۔خواہ وہ ایک آنہ دے کر حصہ لے اور خواہ ایک پیسہ دے کر حصہ لے۔بہر حال ہم میں سے کوئی ایک شخص بھی ایسا نہیں ہونا چاہئے جس کا اس علم کی بنیاد رکھنے میں حصہ نہ ہو۔اگر کوئی ایک پیسہ دینے کی توفیق رکھتا ہے تو وہ ایک پیسہ دے۔اگر کوئی مٹھی بھر دانے دینے کی توفیق رکھتا ہے تو وہ مٹھی بھر دانے دے دے اور اگر کوئی روٹی دینا چاہتا ہے تو روٹی دے دے۔ایک روٹی بھی ایک آنے کو پک سکتی ہے اور اس طرح وہ ثواب میں شریک ہو سکتا ہے۔پس ہر گھر سے یہ چندہ وصول کرو اور ہر شخص کو اس میں شریک کرنے کی کوشش کرو۔اگر کسی گھر سے تمہیں ایک پیسہ ملتا ہے تو تم ایک پیسہ لے لو۔اگر روٹی ملتی ہے تو تم روٹی لے لو۔اگر دھیلا یا دومری ملتا ہے تو دھیلا یا دمڑی لے لو۔اگر اس طرح کوشش کی جائے