خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 75 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 75

خطابات شوری جلد سوم ۷۵ مجلس مشاورت ۱۹۴۴ء جواب ہر صورت اور ہر حالت میں ایک ہی ہوتا ہے کہ میرا مال حاضر ہے، اسے لے لیا جائے۔وقف آمد پس ایک تو میں جماعت کو وقف جائیداد اور وقف آمد کی طرف توجہ دلاتا ہوں اور تحریک کرتا ہوں کہ ہماری جماعت کے دوست اپنے دلوں میں یہ فیصلہ کر لیں کہ وہ سو فیصدی قربانی کرنے کے لئے تیار رہیں گے اور ہر قدم پر اپنے اخلاص کا پہلے سے زیادہ شاندار مظاہرہ کریں گے مگر میری ان باتوں سے تم یہ مت سمجھو کہ میں صرف نام کے طور پر تمہاری جائیدادوں کا وقف چاہتا ہوں۔میں نہیں کہہ سکتا کہ شاید کل ہی وہ دن آجائے جب خدا کی آواز میرے ذریعہ سے یہ بلند ہو کہ آؤ اور اپنی ساری جائیدادیں دین کے لئے قربان کر دو۔اگر خدا نے میرے دل میں یہی ڈالا کہ جماعت سے ساری جائیدادوں کا مطالبہ کیا جائے تو اُس وقت میں یقیناً ساری جائیدادوں کا مطالبہ کروں گا اور ہر وہ شخص جو اس مطالبہ پر اپنی جائیدادوں کو قربان نہیں کرے گا وہ منافق ہو گا۔بالکل ممکن ہے کہ کل ہی اللہ تعالیٰ ایسے حالات پیدا کر دے جن میں مجھے یہ اعلان کرنا پڑے اور یہ بھی ممکن ہے کہ ایک عرصہ تک اس بارہ میں کوئی بھی اعلان نہ ہو۔یہ بھی ہو سکتا ہے کہ کل میں تم سے صرف ایک فیصدی حصہ جائیداد کا مطالبہ کروں۔اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ ایک الہی تدبیر ہو۔آج وہ میری زبان سے یہ کہلوا رہا ہو اور کل وہ یہ کہلوانا چاہتا ہو کہ اپنی جائیدادیں سب کی سب دین کے لئے قربان کر دو۔یہ تمہارا اختیار ہے کہ تم اسے جو چاہو سمجھو۔چاہو تو اسے خدا کی ایک تدبیر سمجھ لو اور چاہو تو یہ سمجھ لو کہ ابھی تم سے کوئی مطالبہ جائیداد کے بارہ میں نہیں ہوگا۔بہر حال میں یہ جانتا ہوں کہ میں اس وقت صرف اپنے موجودہ خیالات کو ظاہر کر رہا ہوں۔میں نہیں جانتا کہ کل کیا ہو گا۔اگر کل خدا تعالیٰ کی طرف سے میری زبان پر یہ جاری ہوا کہ جماعت سے ساری جائیدادیں لے لو تو میں یقیناً ساری جائیدادوں کا مطالبہ کروں گا اور یقیناً جو شخص پیچھے رہے گا وہ اپنے ایمان کا ثبوت دینے والا نہیں ہوگا۔پھر میں دوستوں کو اس بات کی طرف بھی توجہ دلاتا ہوں کہ انہیں صرف جائیدادوں کے وقف میں ہی حصہ نہیں لینا چاہئے بلکہ اپنی آمد نیوں کو بھی اس غرض کے لئے وقف کرنا چاہئے۔جو لوگ چاہیں وہ اپنی جائیداد اور اپنی آمد دونوں وقف کر سکتے ہیں اور جو لوگ چاہیں ا