خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 73
خطابات شوری جلد سوم ۷۳ مشاورت ۱۹۴۴ء کہ تمہارا منشاء یہی ہے کہ خدا بھی کبھی تم پر انعام نازل کرے اور کبھی نازل نہ کرے۔کبھی جنت کے انعامات دے اور کبھی اُن انعامات سے محروم کر دے۔پس یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہئے کہ تم سے اللہ تعالیٰ کا ویسا ہی معاملہ ہو گا جیسا تم اُس سے معاملہ کرو گے۔میں نے تم سے مطالبہ کیا کہ تم اپنی جائیدادیں خدا تعالیٰ کے دین کے لئے وقف کر دو۔اس میں یہ کوئی شرط نہیں تھی کہ تم ابھی اپنی تمام جائیداد میں فروخت کر کے ہمیں دے دو، یہ بھی کوئی شرط نہیں تھی کہ اُس کا نصف یا اُس کا چوتھائی ہمیں دے دو، صرف اتنا مطالبہ تھا کہ تم دین کے لئے اپنی جائیدادوں کو اب وقف کر دو مگر یہ جائیدادیں تمہارے پاس ہی رہیں گی۔جب سلسلہ کے لئے ایسی قربانیوں کا وقت آیا جن کا بوجھ بیٹ المال برداشت نہ کر سکا یا جو ضروریات ہنگامی چندوں سے بھی پوری نہ ہوئیں تو اُس وقت بحصہ رسدی ہر صاحب جائیداد سے مطالبہ ہو گا کہ وہ اس کے مطابق اپنی جائیداد دے یا اتنی رقم سلسلہ کو مہیا کرے۔ظاہر ہے کہ اس میں سر دست کوئی بوجھ جماعت پر نہیں ڈالا گیا تھا اور جس قربانی کا اُن سے مطالبہ کیا گیا تھا وہ وہی تھی جس کا وہ خدا سے اقرار کر چکے تھے مگر ابھی ایک فیصدی جائیدادیں بھی ہماری جماعت نے وقف نہیں کیں اور بہت بڑی اکثریت ایسی رہتی ہے جس نے اس تحریک کی طرف توجہ نہیں کی۔منہ سے تو ہر شخص کہتا ہے کہ میں نے اپنی جان اور اپنا مال قربان کر دیا مگر جب مال مانگا گیا تو ایک فیصدی لوگ بھی ایسے کھڑے نہ ہوئے جو اپنی جائیدادیں وقف کرنے کے لئے تیار ہوں۔اس نمونہ کے بعد ہم اپنی ترقی کی کیا امید کر سکتے ہیں۔حالانکہ ہونا یہ چاہئے تھا کہ ہم میں ایک شخص بھی ایسا نظر نہ آتا جس نے اپنی جائیداد یا اپنی آمد کو خدا تعالیٰ کے دین کے لئے وقف نہ کر دیا ہو۔مگر مجھے افسوس ہے کہ بہت سے لوگوں کی حالت بالکل ویسی ہی ثابت ہوئی جیسے مشہور ہے کہ ایک پٹھان رئیس سے کسی بنیئے کی دوستی ہو گئی۔ایک دن اُسے بہت ہی جوش پیدا ہوا اور اُس نے خاں صاحب سے یہ کہنا چاہا کہ خاں صاحب ہمارا مال آپ کا مال اور آپ کا مال ہمارا مال، ہم اب دو نہیں رہے بلکہ ایک ہی ہو گئے ہیں لیکن جب اُس نے اپنی زبان سے یہ بات کہنی چاہی تو اُس کے منہ سے صرف یہ نکلا۔خان صاحب ! تمہارا مال سو ہمارا مال اور ہمارا مال سو ہیں ہیں ہیں ہیں۔گویا اپنا مال دوسرے کو دینا تو الگ رہا وہ اپنے منہ سے یہ بھی نہ کہہ سکا