خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 743
خطابات شوری جلد سوم ۷۴۳ مجلس مشاورت ۱۹۶۱ء بہتر بنانے والے ہوں۔بجٹ بڑھانے کا طریق مجھے افسوس ہے کہ باوجود اس کے کہ متواتر کئی سال سے میں جماعت کو توجہ دلا رہا ہوں کہ اُسے اپنی آمد کا بجٹ چھپیں لاکھ تک پہنچانا چاہئے ، ابھی تک ہماری جماعت نے اس کی طرف پوری توجہ نہیں کی ، حالانکہ ہمارے سپر د جو عظیم الشان کام کیا گیا ہے اُس کے لحاظ سے ۲۵ لاکھ ہی نہیں بلکہ ۲۵ کروڑ کا بجٹ بھی ہماری تبلیغی ضروریات کے لئے کافی نہیں ہو سکتا کیونکہ ہم نے ساری دُنیا کو اسلام اور احمدیت کے لئے فتح کرنا ہے اور ساری دُنیا میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا پیغام پہنچانا اور اُسے خدائے واحد کے جھنڈے کے نیچے لانا ہے لیکن بہر حال جماعت کی موجودہ تعداد کو مدنظر رکھتے ہوئے ہمیں اپنی آمد کا بجٹ کم از کم پچیس لاکھ تک پہنچانے کی جلد تر کوشش کرنی چاہئے۔جہاں تک میں سمجھتا ہوں ہمارے بجٹ کی کمی میں بڑا دخل اُن نادہندوں کا ہے جو سلسلہ میں شامل ہونے کے باوجود اخلاص کی کمی کی وجہ سے مالی قربانیوں میں حصہ نہیں لیتے ، اسی طرح وہ لوگ جو مقررہ شرح کے مطابق چندہ نہیں دیتے یا بقایوں کی ادائیگی میں سستی سے کام لیتے ہیں۔اُن کی غفلت بھی سلسلہ کے لئے نقصان کا موجب ہو رہی ہے۔پس میں تمام امراء اور سیکرٹریان جماعت کو توجہ دلاتا ہوں کہ اُنہیں روحانی اور تربیتی اصلاح کے ساتھ ساتھ نادہندوں اور شرح سے کم چندہ دینے والوں کے بارہ میں اپنی ذمہ داری سمجھنی چاہئے تاکہ ان میں بھی قربانی کا جذبہ پیدا ہو اور وہ بھی اپنے دوسرے بھائیوں کے دوش بدوش اسلام کو دُنیا کے کناروں تک پہنچانے کے ثواب میں شریک ہوسکیں۔ران مختصر کلمات کے ساتھ میں بیالیسویں مجلس مشاورت کا افتتاح کرتا ہوں اور اللہ تعالیٰ سے دُعا کرتا ہوں کہ وہ ہمارے کاموں میں