خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 734
خطابات شوری جلد سوم ۷۳۴ مجلس مشاورت ۱۹۵۹ء میں سب دوستوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ دفتر دوم میں زیادہ سے زیادہ احمدی نوجوان حصہ لیں اور پھر اپنے وعدوں کو پورا بھی کریں۔“ مشاورت کی کارروائی مکمل ہونے کے بعد حضور نے احباب سے الوداعی خطاب کرتے ہوئے فرمایا : - اختتامی تقریر شوری کا کام ختم ہو چکا ہے۔اب میں دُعا کر دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ جماعت کو تو فیق دے کہ وہ ان فیصلوں پر پوری طرح عمل کرے۔اس کے بعد دوستوں کو اپنے اپنے گھروں کو واپس جانے کی اجازت ہو گی۔آئندہ شوریٰ کی سب کمیٹیوں کے ممبر اپنی اپنی جماعتوں کی طرف سے مقرر ہو کر آیا کریں۔اس کا فائدہ یہ ہو گا کہ مشورہ اچھا ہو سکے گا اور کام بھی جلدی ہوگا۔اس وقت صرف کراچی کی جماعت اچھا کام کر رہی ہے۔اُنہوں نے ڈسپنسری بھی قائم کر لی ہے اور دو مسجدیں بھی بنالی ہیں۔لاہور میں ایک مسجد بھی ابھی تک تیار نہیں ہوئی۔آئندہ کے لئے میں جماعتوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ وہ علیحدہ علیحدہ زون بنا لیں۔مثلاً ایک زون ملتان ڈویژن ہو۔ایک زون راولپنڈی ڈویژن ہو۔ایک زون لاہور ڈویژن ہو۔ایک زون پشاور ڈویژن ہو۔ایک زون بہاولپور ڈویژن ہو اور ایک زون حیدر آباد ڈویژن ہو۔اسی طرح کرنل عطاء اللہ صاحب کی تجویز پر عمل کیا جا سکتا ہے اور ہر حلقہ میں ہسپتال اور مساجد بنائی جاسکتی ہیں اور سکول اور کالج قائم کئے جا سکتے ہیں۔گو بعض شہروں میں ہماری جماعت بہت قلیل تعداد میں ہے لیکن اگر زون بنا لئے جائیں تو ان علاقوں کی جماعتیں باہم مل کر کراچی کی جماعت سے تعداد میں زیادہ ہو سکتی ہیں۔مثلاً ملتان میں ہماری جماعت بہت چھوٹی ہے لیکن اگر ملتان ڈویژن کا زون بنا لیا جائے تو اس زون کی جماعت کراچی کی جماعت سے تعداد میں بڑھ جاتی ہے۔اسی طرح راولپنڈی میں ہماری جماعت کی تعداد ۱۴۰۰ کے قریب ہے لیکن راولپنڈی ڈویژن میں ہماری جماعت کے افراد چودہ ہزار سے بھی زیادہ ہیں۔کراچی میں تو صرف چار ہزار کی جماعت ہے۔اگر اس طرح زون بنا لئے جائیں تو سارے مغربی اور مشرقی پاکستان میں جماعت کو مضبوط بنایا جا سکتا ہے اور ہر جگہ