خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 733
خطابات شوری جلد سوم ۷۳۳ مجلس مشاورت ۱۹۵۹ء ہوگا۔یعنی اگر گورنمنٹ ہمیں ایکھینچ دے دے یا باہر کی جماعتیں پونڈ مہیا کریں تو ایک مسجد پیرس میں بنائی جائے، ایک روم میں بنائی جائے، ایک نیور مبرگ(جرمنی) میں بنائی جائے ، ایک اوسلو(ناروے) میں بنائی جائے اور ایک نیو یارک میں بنائی جائے۔اس طرح یہ مسجد میں ملا کر ۹ مسجد میں ہو جائیں گی۔پیرس میں مسجد بنانے کا یہ فائدہ ہے کہ اس کا تیونس اور مراکش پر بھی اثر پڑے گا۔جو اسلامی ممالک ہیں۔کسی زمانہ میں جب اسلام کمزور ہو گیا تھا تو مراکش اور تیونس نے ہی اسلام کا جھنڈا اونچا رکھا تھا۔پس ان کا حق ہے کہ ہم ان کی مدد کریں۔اگر اس جگہ ہماری مسجد بن جائے تو سپین میں بھی ہماری تبلیغ بڑھ جائے گی کیونکہ یہ ملک سپین کے قریب ہے۔تحریک جدید نے اعلان کیا ہے کہ جو دوست مسجد کے لئے ۱۵۰ روپیہ دیں گے اُن کے نام مسجد پر کندہ کرائے جائیں گے۔میں نے اس سلسلہ میں اپنے بہت سے رشتہ داروں کے نام لکھوائے ہیں مگر چونکہ میں اپنی زمین اُن میں تقسیم کر چکا ہوں، اس لئے یہ شرط ہوگی کہ اگر وہ بھی منظور کریں کہ اُن کی آمد میں سے یہ رقم دی جائے ، تب میں یہ رقم دوں گا ورنہ میں تو اپنی سب جائیداد تقسیم کر چکا ہوں۔بہر حال اگر اُنہوں نے منظور کیا تو ۶۶۰۰ روپیہ میں اس مد میں دوں گا۔ان میں سے ایک رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں، ایک حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ہیں، ایک حضرت خلیفہ المسیح الاول ہیں، ایک حضرت اماں جان ہیں، میں ہوں ، میری بیویاں ہیں، لڑکے لڑکیاں ہیں مگر چونکہ میں جائداد سب رشتہ داروں میں تقسیم کر چکا ہوں اس لئے اس وعدہ کو اس شرط کے ساتھ مشروط کرتا ہوں کہ وہ بھی اس کی منظوری دیں کیونکہ اب یہ زمین اُن کی ہے میری نہیں۔دفتر دوم کے چندہ کے متعلق تحریک افسوس ہے کہ تحریک جدید کے دفتر دوم میں حصہ لینے والے چندوں کی ادائیگی میں سستی دکھا رہے ہیں حالانکہ دفتر اول میں شامل ہونے والے باوجود اس کے کہ وہ بوڑھے ہو چکے ہیں اور اُن کے خرچ بھی زیادہ ہیں پھر بھی زیادہ حصہ لے رہے ہیں۔کل میں نے وکیل التبشیر سے پوچھا تو انہوں نے بھی اقرار کیا کہ دفتر دوم کے چندوں میں کمی ہے حالانکہ نو جوانوں پر بوجھ کم ہے۔بڑھوں پر تو بیویوں اور بچوں کا بوجھ ہوتا ہے مگر ان کے چندے پھر بھی زیادہ ہیں۔