خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 725 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 725

خطابات شوری جلد سوم ۷۲۵ مجلس مشاورت ۱۹۵۸ء کے زمانہ میں ایک دفعہ جیکب آباد میں ۱۱۴ درجہ کی گرمی پڑی تو شور مچ گیا تھا کہ جیکب آباد کے لوگ مر گئے لیکن اس دفعہ فورٹ عباس میں ۱۱۹ درجہ کی گرمی پڑی ہے۔خانپور کا درجہ حرارت ۱۱۵ ہے۔بہاولپور اور ملتان کا درجہ حرارت ۱۱۵ ہے اور یہاں کا درجہ حرارت ۱۱۳ ہے حالانکہ یہاں کا درجہ حرارت اِن دنوں میں ۱۰۸ سے زیادہ نہیں ہوتا تھا۔پچھلے دنوں یہاں کی رپورٹ جو جا بہ گئی تھی وہ یہ تھی کہ یہاں کا درجہ حرارت ۹۲ تھا۔گویا میری جوانی کے زمانہ میں جس قدر گرمی کی خبر سن کر شور مچ گیا تھا کہ لوگ مر گئے ، بعض جگہوں پر اس سے زیادہ گرمی پڑ رہی ہے۔اس گرمی کی شدت کی وجہ سے لوگ زیادہ عرصہ گھروں سے باہر نہیں رہ سکتے۔آخر جتنا امن گھروں میں مل سکتا ہے باہر رہ کر نہیں مل سکتا۔اس لئے میں چاہتا ہوں کہ میں بھی جلدی واپس چلا جاؤں تا کہ مجھے کوفت سے نجات مل جائے اور دوست بھی جلد گھروں کو واپس چلے جائیں۔اگلے سال کے لئے میں نے ہدایت دے دی ہے کہ شوری رمضان سے پہلے رکھیں۔جب شوری کے لئے بہر حال چھٹی لینی پڑتی ہے تو رمضان سے پہلے چھٹی لے لی جائے یا رمضان کے بعد بات ایک ہی ہے۔اگلے سال رمضان اار مارچ سے شروع ہے اس تاریخ سے پہلے جو جمعہ آئے ، شوری اس دن سے شروع کر لی جائے۔اس کے ساتھ ہفتہ، اتوار کے دن ملالئے جائیں کیونکہ یہی دن مناسب ہوتے ہیں۔بہر حال آئندہ سال تو یہ احتیاط انشاء اللہ ہو جائے گی کوئی تعجب نہیں کہ اگر اللہ تعالیٰ فضل فرمائے تو اگلے سال اتنی گرمی بھی نہ پڑے۔اگر اس سال گرمی ۹۲ درجہ سے ترقی کر کے ۱۱۳ درجہ تک پہنچ گئی ہے تو جس خدا نے اسے اس حد تک پہنچایا ہے وہ اسے ۹۰ بھی کر سکتا ہے۔۸۰ بھی کر سکتا ہے۔پس یہ فرق محض عارضی ہے لیکن بہر حال صحت یہ نہیں دیکھتی کہ یہ فرق عارضی ہے یا مستقل۔صحت تو یہ دیکھتی ہے کہ حالت کیا ہے میری صحت چونکہ اس سال زیادہ خراب رہی ہے اس لئے میں گرمی کی اس شدت کو برداشت نہیں کرسکتا۔پہلے میں اجابت کے لئے چوکی پر بیٹھ سکتا تھا لیکن پھر چوکی چھٹ گئی اور اب تک چھٹی ہوئی ہے۔بعد میں میں نے کموڈ پر بیٹھنا شروع کیا لیکن کموڈ پر بھی میں جھک نہیں سکتا۔اگر جُھکوں تو ٹانگ میں اتنی درد ہوتی ہے کہ یوں معلوم ہوتا ہے کہ وہ ٹوٹ جائے گی۔جو علاج لوگوں نے بتائے ہیں وہ سب گرم ہیں اور اس گرمی کے موسم میں میں وہ علاج نہیں کروا سکتا۔