خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 722 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 722

خطابات شوری جلد سوم ۷۲۲ مجلس مشاورت ۱۹۵۸ء عیسائیت اور دہریت دُنیا سے مٹ جائیں اور اسلام اور توحید ساری دُنیا پر غالب آ جائے۔یہ کام تو اس کا ہے اور اُسی نے اپنے فضل سے اسے سرانجام دینا ہے۔ہم تو صرف لہو لگا کر شہیدوں میں شامل ہونا چاہتے ہیں۔ہماری مثال بالکل ایسی ہی ہے جیسے مائیں جب کوئی وزنی چیز اُٹھانے لگتی ہیں تو اپنے بچہ کی حوصلہ افزائی کے لئے اُسے کہتی ہیں کہ تم بھی اُنگلی لگا دو۔بچہ اپنے خیال میں سمجھتا ہے کہ کام میں کر رہا ہوں حالانکہ ماں کر رہی ہوتی ہے۔اسی طرح ہم سمجھ رہے ہیں کہ اسلام کی اشاعت کا کام ہم کر رہے ہیں حالانکہ اصل میں یہ کام خدا تعالیٰ کر رہا ہے لیکن پھر بھی اس ثواب میں شریک ہونے کے لئے ہمیں دعائیں کرنی چاہئیں کہ اللہ تعالیٰ کا فضل نازل ہو اور وہ اس کام کو جلدی پورا کرے۔کام تو ہماری دعاؤں کے بغیر بھی ہو سکتا ہے مگر اس صورت میں یہ سمجھا جائے گا کہ ہم نے اس کام میں کوئی حصہ نہیں لیا لیکن اگر ہم دُعائیں کریں گے تو یہ سمجھا جائے گا کہ ہم نے بھی کام پورا کرنے میں حصہ لیا ہے۔پس پہلے میں دعا کرتا ہوں پھر بقیہ کا رروائی شروع کی جائے گی۔“ ضرورت کے مطابق مناسب اور سستا لٹریچر شائع کریں مجلس مشاورت میں اشاعت لٹریچر پر بحث کے دوران میں مکرم شیخ رحمت اللہ صاحب امیر جماعت کراچی نے شکایت کی کہ ضرورت کے وقت مرکز سے مناسب لٹریچر نہیں ملتا۔شاہ افغانستان کی آمد کے اہم موقع پر ہمیں جو دعوۃ الا میر کا صرف ایک نسخہ بھجوایا گیا اس کے کئی صفحات دیمک خوردہ تھے۔اس پر حضور نے فرمایا :- ”ہماری فارسی کتابیں ختم ہو چکی ہیں۔دعوۃ الامیر کا فارسی ترجمہ مولوی عبیداللہ صاحب بسمل مرحوم نے کیا تھا مگر اب وہ نہیں ملتا اور نہ اس کو دوبارہ چھپوانے کی کوئی کوشش کی گئی ہے۔میرے نزدیک ضروری ہے کہ ایک لسٹ بنائی جائے اور دیکھا جائے کہ ہمارے پاس عربی زبان میں کون کون سی کتابیں ہیں اور کس کس مضمون پر مزید کتابیں شائع ہونی چاہئیں، اسی طرح بنگالی میں کون کون سی کتابیں ہیں اور کون کون سی کتابیں شائع ہونی ضروری ہیں، انگریزی میں کون کون سی کتابیں ہیں اور کون کون سی شائع کرنی ضروری ہیں،