خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 718 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 718

خطابات شوری جلد سوم ۷۱۸ مجلس مشاورت ۱۹۵۸ء تھا تو چونکہ یہ مقام مدینہ سے سے فاصلہ پر تھا۔ آپ نے ۔ نے خیال فرمایا کہ اگر میں نے مدینہ والوں کو دشمن سے جنگ کرنے کا حکم دیا تو یہ ان سے بد عہدی ہو گی اس لئے آپ نے تمام صحابہ کو جمع کیا اور فرمایا آپ لوگ مشورہ دیں کہ اب کیا کیا جائے؟ اب قافلہ کا سوال نہیں کفار کی مسلح فوج سے مقابلہ ہے۔ اس پر ایک ایک کر کے مہاجرین اُٹھے اور اُنہوں نے کہا يَا رَسُولَ اللہ ! ہم دشمن سے ڈرتے نہیں ہم اس کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار ہیں مگر جب کوئی مہاجر اپنے خیالات کا اظہار کر ۔ ار کر کے بیٹھ جاتا تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وس علیہ وآلہ وسلم پھر فرماتے کہ اے لوگو! مجھے مشورہ دو۔ جب بار بار آپ نے یہ فقرہ دہرایا تو ایک انصاری سردار کھڑے ہوئے اور کہنے لگے یا رسول اللہ ! مشورہ تو آپ کو مل رہا ہے مگر پھر جو آپ بار بار مشورہ طلب فرما رہے ہیں تو شاید آپ کی مراد ہم انصار سے ہے آپ نے فرمایا۔ ہاں ۔ اس سردار نے کہا یا رسول اللہ ! شاید آپ اس لئے ہمارا مشورہ طلب فرما رہے ہیں کہ آپ کے مدینہ آنے سے قبل ہمارے اور رے اور آپ کے درمیان ایک معاہدہ ہوتا تھا اور وہ معار در وہ معاہدہ یہ تھ کہ اگر کسی نے مدینہ پر حملہ کیا تو ہم اس کا مقابلہ کریں گے لیکن مدینہ سے باہر نکل کر اگر لڑائی کرنی پڑی تو ہم اس میں شامل ہونے کے پابند نہیں ہوں گے۔ آپ نے فرمایا ہاں ۔ اسی انصاری سردار نے کہا یا رسول اللہ ! جب یہ معاہدہ ہوا تھا اُس وقت ہم پر آپ کی حقیقت پورے طور پر روشن نہیں ہوئی تھی لیکن اب آپ کی حقیقت ہم پر پورے طور پر واضح ہو چکی ہے اور آپ کی شان کا ہمیں پتہ لگ گیا ہے اس لئے اب اُس معاہدہ کا کوئی سوال نہیں۔ ہم حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھیوں کی طرح آپ سے یہ نہیں کہیں گے کہ اذْهَبُ اَنْتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلاَ إِنَّا هَهُنَا قَاعِدُونَ کے کہ تو اور تیرا رب جاؤ اور دشمن سے لڑتے پھرو ہم تو یہیں بیٹھے ہیں بلکہ یا رسول اللہ ! ہم آپ کے دائیں بھی لڑیں گے اور بائیں بھی لڑیں گے اور آگے بھی لڑیں گے اور پیچھے بھی لڑیں گے اور دشمن آپ تک نہیں پہنچ سکتا جب تک وہ ہماری لاشوں کو روندتا ہوا نہ گزرے ہے یا رسول اللہ ! جنگ تو ایک معمولی بات ہے اگر آپ حکم دیں کہ ہم سمندر میں اپنے گھوڑے ڈال دیں تو خدا کی قسم ہم بغیر کسی ہچکچاہٹ کے اپنے گھوڑے بھی سمندر میں ڈال دیں گے ہے ایک اور انصاری کہتے ہیں کہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ XXX