خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 57 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 57

خطابات شوری جلد سوم مجلس مشاورت ۱۹۴۴ء کھڑی کریں گے اور اس غرض کے لئے ہمیں جس قربانی سے بھی کام لینا پڑا اُس سے دریغ نہیں کریں گے۔اگر جانی قربانی کا سوال آیا تو ہم اپنی جان قربان کر دیں گے، اگر مالی قربانی کا سوال آیا تو ہم اپنا مال قربان کر دیں گے اور اس بات کی ذرا بھی پرواہ نہیں کریں گے کہ ہم پر اور ہمارے عیال پر کیا گزر رہی ہے۔مگر چونکہ جماعت کے تمام افراد میں یکساں جوش اور اخلاص نہیں ہوتا بلکہ کوئی اپنے اخلاص کے لحاظ سے اول درجہ کے ہوتے ہیں تو کوئی دوسرے درجہ کے اور کوئی تیسرے درجے کے۔اس لئے ضروری ہے کہ جماعت کے ہرفرد پر جانی اور مالی قربانی کی اہمیت کو پوری طرح واضح کیا جائے اور جب اکثریت اپنے اندر ایک تغیر پیدا کر لے تو ہر شخص اپنے ہمسایہ کی اصلاح کرے۔ہر شخص جماعت کے شست اور غافل لوگوں کے پاس جائے اور خود اُسے کہے اے میرے بھائی ! اسلام پر ایک نازک وقت آیا ہوا ہے، ہمیں تو اس غرض کے لئے غیر سے بھی بھیک مانگنے میں کوئی شرم محسوس نہیں کرنی چاہئے مگر تم تو ہمارے بھائی ہو، تم سے نہ کہیں تو اور کس سے کہیں۔تم چندہ میں کوتا ہی کرتے ہو، تم مالی مطالبات میں دلیری سے حصہ نہیں لیتے جس کا نتیجہ یہ ہو رہا ہے کہ سلسلہ کے کاموں کو نقصان پہنچ رہا ہے۔میں تو امید کرتا تھا کہ سلسلہ اگر ایک روپیہ مانگے گا تو تم دو روپے دو گے، سلسلہ اگر دس روپے مانگے گا تو تم ہیں روپے دو گے مگر تم تو فرض چندوں کی ادائیگی میں بھی کوتاہی سے کام لے رہے ہو، پھر یہ کام کس طرح ہو گا؟ خدا کے لئے اپنی غفلت کو ترک کرو اور سلسلہ کے مالی مطالبات پر زیادہ سے زیادہ قربانی کا نمونہ دکھاؤ کہ یہی وہ چیز ہے جو تمہارے کام آئے گی ، یہی وہ نیکی ہے جو تمہاری نجات کا ذریعہ ہوگی۔اگر اس طرح جماعت کا ہر فرد مجنونانہ رنگ میں کام کرنے کے لئے کھڑا ہو جائے تو ۲۵ لاکھ کا ریز روفنڈ نہایت آسانی کے ساتھ قلیل سے قلیل عرصہ میں قائم ہوسکتا ہے۔میرے نزدیک اس امر کی یاد دہانی ناظر صاحب بیت المال کے ذمہ ہے۔اُن کا فرض ہے کہ وہ جماعت کو بار بار توجہ دلائیں کہ وہ ریز رو فنڈ کی فراہمی میں حصہ لے۔یہ ثواب حاصل کرنے کا کیسا اچھا موقع ہے جو اللہ تعالیٰ نے اُنکے لئے مہیا فرما دیا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں جو شخص دوسرے کو نیک تحریک کرتا ہے اس پر عمل کرنے کی وجہ سے جو ثواب عملِ صالح کرنے والے کو ملے گا ویسا ہی ثواب نیک تحریک