خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 707
خطابات شوری جلد سوم مجلس مشاورت ۱۹۵۷ء میرے ایک بیٹے کو خدا تعالیٰ نے توفیق دی اور اُس نے کچھ کام کیا تو اس جلسہ پر میں نے اعلان کیا کہ وہ قرضہ میں نے اس حد تک ادا کر دیا ہے لیکن ابھی کچھ حصہ قرضہ کا ابھی باقی ہے جو میں چاہتا ہوں کہ اپنے سامنے ادا کر دوں۔اس طرح بچوں کو بھی توجہ رہتی ہے کہ وہ قرضہ ادا کریں۔بہر حال خدا تعالیٰ میں سب طاقتیں ہیں جو خدا باہر جا کر صحت دے سکتا ہے وہ یہاں بھی ایسے سامان کر سکتا ہے کہ میری صحت میں ترقی ہو جائے۔پچھلی دفعہ بھی میں باہر جانے پر راضی نہیں تھا مگر سامان ایسے ہو گئے کہ مجھے باہر جانا پڑا۔میں یکدم ایسا بیمار ہو گیا کہ ڈاکٹروں نے رائے دی کہ میں باہر چلا جاؤں۔مثلاً خود ڈاکٹر ملک صاحب جو ڈائریکٹر ہیلتھ تھے اُنہوں نے بھی یہ مشورہ دیا جب انہوں نے مجھے دیکھا تو کہا اب دوائیں ختم ہو چکی ہیں دوائیں اب آپ کو فائدہ نہیں دے سکتیں۔اب ایک ہی علاج ہے کہ آپ فوراً باہر چلے جائیں یورپ کی جو آب و ہوا ہے وہ آپ کو مفید پڑے گی۔میں یہ نہیں کہتا کہ یہاں کوئی دوائی نہیں جو دوائیں ان لوگوں کو معلوم ہیں وہ ہمیں بھی معلوم ہیں لیکن وہاں کی آب و ہوا ایسی ہے کہ ہم جانتے ہیں کہ وہاں جا کر آپ کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔چنانچہ ایسا ہی ہوا۔جب ہم وہاں پہنچے تو میں فوراً کچھ نہ کچھ چلنے پھرنے لگ گیا اور جسم میں طاقت آگئی۔واپس آکر جو صحت میں پروگریس (Progress) ہوئی ہے وہ ظاہر ہی ہے۔۱۹۵۴ء میں میں نے مجلس شوریٰ میں کچھ کام کیا تھا۔۱۹۵۵ء میں میں بیمار ہو گیا اس لئے اُس سال شوری میں میں نہ آسکا۔۱۹۵۶ء میں بھی میں صرف ایک دن اجلاس میں آیا تھا اور پھر واپس چلا گیا تھا ، کوئی کام نہیں کیا تھا۔آج ۱۹۵۷ء میں چار سال کے بعد پھر خدا تعالیٰ نے مجھے توفیق دی ہے کہ میں شوری میں تمام اجلاسوں میں شریک ہوا ہوں اور کام بھی کیا ہے۔یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ میری صحت میں ترقی ہوئی اور ہو رہی ہے لیکن بعض چیزیں ایسی ہیں جن میں کوئی نمایاں فرق نہیں پڑا۔مثلاً ہاتھوں میں جو بے حسی تھی وہ ابھی تک دُور نہیں ہوئی اس سے بعض اوقات بڑی گھبراہٹ ہو جاتی ہے۔پیر کی انگلیاں اندر کو کھنچتی ہیں اور ہاتھ بے حس ہو جاتا ہے۔ہوتی تو یہ مذاق کی بات ہے لیکن گھر میں میرا کوئی چھوٹا پوتا یا نواسہ آ جائے تو وہ بیمر نہیں سمجھتا۔وہ میرا ہاتھ پکڑ لے تو میں فوراً گھبرا جاتا ہوں