خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 704 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 704

XXXXXXXX 7۔ لد مجلس مشاورت ۱۹۵۷ء خطابات شوری جلد سوم غصے والا چہرہ سارا دن نہ نہ دیکھتی دیں رہے۔ میں جب ولایت سے آیا تو کراچی میں میری ایک تقریر ہوئی ۔ اُس میں میں نے یہ واقعہ سنایا۔ اس کا اثر یہ ہوا کہ انڈونیشیا سے ہمارے مبلغ کا خط آیا کہ یہاں پاکستانی ایمبیسی میں جو پریس اٹاچی تھا اس نے مجھے بتایا کہ میں نے مرزا صاحب کی ایک تقریر سنی ہے مجھے تعدد ازدواج کا مسئلہ کبھی سمجھ نہیں آیا کرتا تھا اب یہ مسئلہ سمجھ آ گیا ہے۔ میں نے سمجھا کہ یہ کوئی پرانی بات ہوگی اس لئے میں نے اُسے لکھا کہ مجھے تو یاد نہیں میں نے سمجھ کہ یہ کہ کبھی میں نے کراچی میں ایسی تقریر کی ہو۔ مگر اُس نے میری اسی تقریر کا حوالہ دیا جس میں میں نے یہ واقعہ بیان کیا تھا۔ اس پر مجھے تعجب ہوا کہ میں نے تو صرف ایک لطیفہ بیان کیا تھا مگر اس افسر نے اس لطیفہ سے ہی ایک اہم مسئلہ سمجھ لیا۔ بہر حال اس سے اتنا پتہ لگتا ہے کہ وہاں اسلام کی طرف توجہ پیدا ہو گئی ہے اور ہمیں اس سے فائدہ اُٹھانے کی کوشش کرنی چاہئے ۔ میں نے بتایا ہے کہ صدر انجمن احمد یہ کے آدمی ہمیشہ میرے پاس آتے ہیں اور مجھ سے مشورہ کرتے ہیں لیکن تحریک والے ایسا نہیں کرتے ۔ بار بار توجہ دلانے کے بعد اب ۔ اُنہیں اس کا کچھ احساس ہونے لگا ہے۔ آخر انہیں اتنا تو سمجھنا چاہئے کہ بیرون پاکستان میں ساری تبلیغ میں نے شروع کی ہے اس سے پہلے یورپ میں سوائے دو کنگ مشن کے اور کوئی تبلیغی مشن نہ تھا پھر میں نے پہلے انگلستان میں مشن قائم کیا اس کے بعد سیلون میں مشنری بھیجوایا، پھر ماریشس میں بھجوایا ، پھر جرمنی میں بھجوایا ، پھر افریقہ میں مشنری بھجوایا، یونائٹڈ سٹیٹس امریکہ میں بھیجوایا، چین میں بھجوایا ، ہانگ کانگ میں بھجوایا، انڈونیشیا میں بھجوایا۔ غرض سارے کے سارے تبلیغی مشن میرے ہی زمانہ میں قائم ہوئے ہیں ۔ اگر تحریک والے آتے تو میرے مشورہ سے بہت فائدہ اُٹھا سکتے تھے لیکن چونکہ اُنہوں نے ایسا نہیں کیا اس لئے شیخ رحمت اللہ صاحب کی تجویز پر عمل کئے بغیر مجھے اور کوئی چارہ نظر نہیں آتا ۔ بجٹ کی موجودہ صورت روپیہ کے لحاظ سے بھی غلط ہے اور پھر بڑا سوال آدمیوں کے مہیا کرنے کا ہے۔ ہے ۔ اس کے لحاظ سے بھی بہت کچھ مشورہ کی ضرورت ہے۔ جب میں بھی اتنے لمبے تجربہ کے باوجود دوسروں سے مشورہ لے لیتا ہوں تو ان کو تو چاہئے چاہئے کہ کہ وہ وہ بیسیوں آدمیوں سے مشورہ کیا کریں ۔ حضرت خلیفہ مسیح الاوّل فرمایا کرتے تھے کہ دیکھو اگر تم کو خدا تعالیٰ سے محبت ہوتی