خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 701
خطابات شوری جلد سوم مجلس مشاورت ۱۹۵۷ء ٹیو نیشیا کی آزادی کے متعلق مشورہ کرنے آیا ہوں۔تو ان لوگوں کو احمدیت کی طرف توجہ ہے۔یہ تو نہیں کہ وہ احمدی ہیں لیکن اس میں کوئی شبہ نہیں کہ وہ اس بات کی طرف مائل ہیں کہ سلسلہ کی کتابیں پڑھیں۔اگر ہمارے دوست وہاں جائیں تو احمدیت اُن علاقوں میں بھی پھیل سکتی ہے جیسے ہمارے ترک دوست محمود ہیں جو ٹیونیشیا کے رہنے والے ہیں پہلے نیورمبرگ میں ہمارے مبلغ تھے۔اب نیورمبرگ سے ٹیونیشیا گئے اور وہاں تبلیغ کی تو دو احمدی ہو گئے اور ساتھ ہی اُنہوں نے بتایا کہ ٹیونیشیا کے لوگ احمدیت کی طرف بہت توجہ رکھتے ہیں۔اگر سمجھدار مبلغ اُن علاقوں میں جائیں تو وہ لوگ احمدیت کی طرف جلد متوجہ ہو سکتے ہیں۔پس ہمیں جزائر فجی۔ٹرینیڈاڈ۔ڈچ گی آنا۔برٹش گی آنا۔ٹیو نیشیا اور جرمنی کو۔چھوڑ نا نہیں چاہئے۔جرمنی میں بعض جگہوں پر بڑے اچھے اچھے افراد احمدیت میں داخل ہوئے ہیں مثلاً پروفیسر ٹلٹاک جو بڑی اچھی حیثیت کے ہیں وہ یہاں آئے اور کچھ عرصہ رہے واپس جا کر اُنہوں نے منور احمد کو لکھا کہ یہاں میں منسٹر آف انڈسٹریز سے ملا تھا اور اُسے کہا تھا کہ ربوہ میں ہمارا ہسپتال بن رہا ہے اس لئے تم کوئی تحفہ بھجوا ؤ۔چنانچہ اس نے وعدہ کیا ہے کہ میں اس کا خیال رکھوں گا۔بے شک احمدی ہونے والوں میں سے بعض کمزور بھی ہوتے ہیں۔مثلاً جرمنی میں جو شخص پہلے احمدی ہوا تھا وہ انگلستان آ کے مرتد ہو گیا تھا لیکن اس کے بعد ایسے لوگ احمدیت میں داخل ہوئے جو بہت مخلص ثابت ہوئے۔مثلاً نیورمبرگ میں ایک مخلص نوجوان جس نے اپنی زندگی بھی وقف کی تھی اُس ہوٹل میں جہاں میں ٹھہرا ہوا تھا روزانہ آ کر تعلیم حاصل کرتا تھا۔اس طرح نیورمبرگ میں گو صرف دس بارہ احمدی ہیں مگر روزانہ باری باری اُن میں سے دو آدمی ہوٹل میں رہا کرتے تھے۔ایک دن میں نے دروازہ کھولا تو دیکھا کہ ایک چار پائی بچھی ہے۔میں نے عبد اللطیف صاحب سے دریافت کیا کہ یہ کیا بات ہے تو اُنہوں نے کہا کہ یہاں کی جماعت نے آپس میں باریاں مقرر کی ہوئی ہیں اور وہ باری باری یہاں آکر پہرہ دیتے ہیں۔یہ لوگ آپ کے ہوٹل کے دروازہ کے آگے چار پائیاں بچھا لیتے ہیں اور پہرہ دیتے ہیں۔غرض ان لوگوں کے اندر پاکستانیوں کی طرح اخلاص پایا جاتا ہے۔