خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 700 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 700

خطابات شوری جلد سوم مجلس مشاورت ۱۹۵۷ء موٹر کے بغیر کام نہیں چل سکتا اور موٹر ۵۰ - ۶۰ پونڈ میں آتی ہے۔سفر یورپ کے دوران میرے بیٹے نے محنت کر کے وہاں ۵۰ پونڈ کی موٹر خریدی تھی لیکن مبلغ نے یہ نہیں کرنا۔اُس نے جہاز سے اُترتے ہی فوراً تاریں دینی شروع کر دینی ہیں کہ میرے لئے موٹر کا انتظام کریں کیونکہ یہاں موٹر کے بغیر کام ہی نہیں چل سکتا۔آخر ہمیں سوچنا چاہئے کہ جب ہم تنگی کی حالت میں سے گزر رہے ہیں تو ایسی سکیمیں سوچنے کا فائدہ کیا ہے۔جو بجٹ آگے ہی انتہائی تنگی سے بنایا گیا ہے اُس میں موٹر ڈرائیوری کی گنجائش رکھ کر نئے مبلغ کو خراب کرنا ہے۔وہ مبلغ جو دس دس سال سے باہر بیٹھے ہیں اُن کے لئے تو کوئی موٹر نہیں لیکن جو ابھی جانے والے ہیں ان کو پہلے سے ہی ڈرائیوری سکھا کے بھیجا جائے گا جس کے معنے یہ ہیں کہ جب تک تم انہیں سکھاؤ گے وہ اپنا سر پھوڑیں گے اور جب وہ سیکھ جائیں گے تو تحریک جدید کا سر پھوڑیں گے۔یہ سکیمیں بچوں والی ہیں۔ہمیں کم سے کم خرچ کے ساتھ زیادہ سے زیادہ کام کرنا چاہئے۔ہم نے ساری دُنیا کو جو احمدیت کی پیاسی ہے تعلیم دینی ہے اور اس کے لئے ہمیں بجٹ میں زیادہ سے زیادہ کفایت کی ضرورت ہے۔میں یہ نہیں کہتا کہ مبلغین کو موٹر میں مت دو مگر میں کہتا ہوں کہ اُن کے اندر موٹر کی خواہش مت پیدا کرو۔جب تم انہیں موٹر ڈرائیوری سکھاؤ گے تو تم اُن کے اندر موٹر کی خواہش پیدا کر دو گے اور یہ چیز ضرر رساں ہے۔پس میرے نزدیک یہ تجاویز خطرات سے خالی نہیں۔اوّل تو کئی علاقے جہاں مبلغ بھجوانے کی ضرورت تھی چھوڑ دیئے گئے ہیں۔مثلاً ٹیو نیشیا کا علاقہ چھوڑ دیا گیا ہے اور وہاں مبلغ نہیں بھیجا جا رہا حالانکہ ہمارے آدمی نے وہاں سے لکھا ہے کہ ٹیونیشیا میں تبلیغ کے بہت سے مواقع ہیں اور ان لوگوں میں تعصب بھی اتنا نہیں جتنا دوسری جگہوں میں پایا جاتا ہے چنانچہ ٹیونیشیا کا ایک بہت بڑا رئیس جو وہاں کے وزیر اعظم حبیب بورقیہ کا نائب ہے مجھے یورپ میں ملا۔میں نے دریافت کیا کہ آپ کیسے آئے ہیں۔اُس نے کہا میں نے سُنا ہوا تھا کہ امام جماعت احمد یہ یہاں آئے ہوئے ہیں۔جب میں نے آپ کے ساتھ بہت سے آدمی دیکھے تو مجھے خیال آیا کہ آپ ہی امام جماعت احمد یہ معلوم ہوتے ہیں۔چنانچہ میں ملنے کے لئے آگیا۔میں ٹیونیشیا کے وزیر اعظم حبیب بورقیہ کا نائب ہوں اور میں یہاں