خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 697 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 697

خطابات شوری جلد سوم ۶۹۷ مجلس مشاورت ۱۹۵۷ء اس موقع پر جناب حافظ عبدالسلام صاحب وکیل الاعلیٰ نے عرض کیا کہ ۷۵ فیصدی تو ہم خود وصول کر لیتے ہیں اس پر حضور نے فرمایا :- ” بے شک آپ وعدوں میں سے ۷۵ فیصدی وصول کر لیتے ہیں لیکن جب آپ دیں گے تو وعدے بھی زیادہ کرائیں گے پھر ۷۵ فیصدی جو آپ وصول کر لیتے ہیں اس سے بھی زیادہ آپ کو وصول ہوا کرے گا۔“ بجٹ اخراجات اور دو نئے مشن مجلس شوری کا چوتھا اور آخری اجلاس ٹھیک تین بجے بعد دو پہر حضرت خلیفہ اسیح الثانی کی صدارت میں فلپائن اور نجی کھولنے کی تجویز شروع ہوا۔حضور نے کرسی صدارت پر رونق افروز ہونے کے بعد جناب حافظ عبدالسلام صاحب وکیل الاعلیٰ تحریک جدید سے فرمایا کہ وہ تحریک جدید کا بجٹ اخراجات پیش کریں۔حضور کے ارشاد کی تعمیل میں جناب حافظ عبدالسلام صاحب نے تحریک جدید کا بجٹ اخراجات برائے سال ۵۸ - ۱۹۵۷ء پیش کیا اور کہا کہ اس سال تجویز ہے کہ فلپائن اور نجی میں دو نئے مشن کھولے جائیں اور اُن پر ۲۲۶ پونڈ فی مشن اخراجات کا اندازہ ہے۔سب کمیٹی تحریک جدید سفارش کرتی ہے کہ ان نئے اخراجات کو منظور کر لیا جائے۔اس موقع پر حضور نے فرمایا:۔اس وقت نئے مشنوں کے متعلق ایک تجویز پیش کی بیرونی مشنوں کیلئے ہدایات سنی سے لیکن یہ کام خالص خلافت کا ہے اور ان کو گئی ہے یہ چاہئے تھا کہ اس بارہ میں پہلے مجھ سے مشورہ لے لیتے۔کیونکہ چالیس سال سے برابر میں بیرونی مشنوں کو دیکھ رہا اور ان کی راہنمائی کر رہا ہوں۔جب میں ان کے پاس موجود تھا تو وہ مجھ سے مشورہ لے لیتے۔مثلاً ایک مشورہ میں برابر ان کو دیتا رہا ہوں لیکن اُنہوں نے بجٹ میں اس کا خیال تک نہیں رکھا۔میں ان کو کہتا رہا ہوں کہ جرمنی میں فوراً ایک اور مشن کھولنا ضروری ہے ورنہ ہمارا جرمن مشن کامیاب نہیں ہوسکتا۔جرمنی کے بعض حصوں میں نئے احمدی ہوئے ہیں اور وہ ہیمبرگ سے کئی سو میل کے فاصلہ پر ہیں۔جس وقت میں وہاں