خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 696
خطابات شوری جلد سوم ۶۹۶ مجلس مشاورت ۱۹۵۷ء ایک دوست نے کی ہے۔میرے خیال میں بہتر ہے کہ محکمہ اس تجویز پر غور کرے۔چاہے شروع میں بہت تھوڑی سی نسبت رکھیں مگر تھوڑی نسبت سے بھی آخر وہاں کی جماعتوں کی گرانٹ بڑھ جائے گی اور پھر انہیں زیادہ توجہ پیدا ہوگی کہ تحریک جدید کے چندے با قاعدگی سے وصول کیا کریں۔مثلاً اب پتہ لگا ہے کہ یوں تو تحریک جدید کی آمد ملا کر جماعت کراچی کی آمد ۲ لاکھ ۲۰ ہزار ہے لیکن صدر انجمن احمدیہ کی جو آمد تھی وہ ایک لاکھ اکتیس ہزار تھی۔اگر باقی آمد کا اڑھائی فیصد بھی تحریک جدید دے تب بھی بارہ ہزار یہاں سے ملا تین چار ہزار تحریک جدید سے مل کر سولہ ہزار بن جاتا ہے۔پھر تھوڑے دنوں تک یہ رقم پچیس تیس ہزار تک پہنچ جائے گی۔تو تحریک جدید یہ امر زیر غور رکھے چاہے شروع میں Percentage بہت تھوڑی ہو اور چاہے میری تجویز کے مطابق Percentage نہ رکھے بلکہ گرانٹ رکھے بشرطیکہ تحریک جدید کا چندہ ۷۵ فیصدی وصول ہو جائے۔پس یہ تجویز بڑی مفید ہے۔تحریک جدید اسے نوٹ کرے اور آئندہ اسے مد نظر رکھے۔جو دوست اس بات کی تائید میں ہوں کہ تحریک جدید کا بجٹ آمد جس صورت میں کی بجٹ کمیٹی نے پیش کیا ہے منظور کر لیا جائے وہ کھڑے ہو جائیں۔“ رائے شماری پر ۳۹۵ ممبروں نے اس کے حق میں رائے دی۔حضور نے فرمایا : - بجٹ آمد کی منظوری رائے شماری سے پتہ لگتا ہے کہ ۳۹۵ ممبر اس بات کے حق میں ہیں کہ تحریک جدید کے بجٹ آمد کو منظور کر لیا جائے۔گویا پانچ ممبر اس وقت غیر حاضر ہیں۔میں کثرتِ رائے کے مطابق تحریک جدید کے بجٹ آمد کو منظور کرتا ہوں۔اس سفارش کے ساتھ کہ آئندہ وہ گرانٹیں بھی مد نظر رکھا کریں اور اپنے بجٹ میں گرانٹ کا حصہ شامل کیا کریں۔وہ بے شک اپنی موجودہ وقت کو مد نظر رکھتے ہوئے کہ ابھی با قاعدہ وصولیاں نہیں ہوتیں تھوڑی گرانٹ رکھیں مگر کچھ نہ کچھ ضرور رکھیں اور کہہ دیں کہ جو جماعت ۷۵ فیصدی وصول کرے گی اُس کو ہم گرانٹ دیں گے۔وہ اندازہ لگا لیں کہ کراچی سے اتنا آتا ہے، لاہور سے اتنا آتا ہے، ملتان سے اتنا آتا ہے، راولپنڈی سے اتنا آتا ہے، سیالکوٹ سے اتنا آتا ہے، ربوہ سے اتنا آتا ہے اور پھر اس چندہ کی نسبت سے ہر ایک کے لئے الگ الگ گرانٹ مقرر کر دیں۔“