خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 693
خطابات شوری جلد سوم ۶۹۳ مجلس مشاورت ۱۹۵۷ء ڈپٹی کمشنر بھی ہمارے ہاں آجائے تو وہ ڈرتا ہے کہ ملک والے کیا کہیں گے؟ لیکن وہاں یہ حالت ہے کہ ہماری مسجد کے افتتاح کے موقع پر خود وزیر اعظم جو عیسائی تھا آیا اور اُس نے کہا آپ لوگ جو کام اس ملک میں کر رہے ہیں وہ بے نظیر ہے، ہم اس کی قدر کرتے ہیں۔آپ نے ہمارے ملک کو بہت اونچا کیا ہے اس لئے میں یہاں افتتاح کے لئے آیا ہوں۔اسی طرح یو۔این۔او کے نمائندے اور یونائیٹڈ سٹیٹس کے نمائندے بھی گئے۔امریکہ کا ایک مشہور رسالہ ”لائف ہے جو چالیس لاکھ کی تعداد میں چھپتا ہے اس رسالہ میں ایک مضمون چھپا تھا جس میں لکھا تھا کہ افریقہ میں احمدیت کثرت کے ساتھ پھیل رہی ہے اور وہاں ۶۰ لاکھ احمدی ہو گیا ہے کے حالانکہ ہمارا اندازہ صرف ایک لاکھ سے اوپر کا ہے۔پھر الفضل میں شائع ہو چکا ہے کہ ایک عیسائی پروفیسر نے اپنی ایک کتاب میں لکھا کہ آئندہ افریقہ کا مذہب اسلام ہوگا یا عیسائیت۔پھر وہ لکھتا ہے کہ پہلے یہ خیال تھا کہ افریقہ کا آئندہ مذہب عیسائیت ہوگا مگر اب یہ بات غلط ہو گئی ہے۔احمد یہ جماعت نے ملک میں جو مشن کھولے ہیں ان کی وجہ سے یہ بات یقینی طور پر نہیں کہی جاسکتی کہ یہاں کا آئندہ مذہب عیسائیت ہوگا بلکہ بالکل ممکن ہے کہ کچھ عرصہ کے بعد ہمیں یہ ماننا پڑے کہ اس ملک کا آئندہ A مذہب اسلام ہوگا تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے وہاں جماعت بڑھ رہی ہے اور جب جماعت کی تعداد زیادہ ہو جائے گی تو ہماری پونڈوں کی دقت بھی دور ہو جائے گی۔ہمارا دوسو کے قریب مبلغ گولڈ کوسٹ میں کام کر رہا ہے۔اُن کے سب اخراجات مقامی جماعت خود دیتی ہے۔آنے جانے کے کرائے بھی وہی دیتے ہیں۔لٹریچر بھی خود شائع کرتے ہیں۔ہم بھی اُن کو گرانٹ دیتے ہیں مگر اس لئے کہ : - اوّل تو وہ لوگ ابھی تہذیب میں بہت پیچھے ہیں اور ہمارا فرض ہے کہ اُن کی مدد کریں۔دوسرے وہ تعداد میں ہم سے کم ہونے کے باوجود اس قدر قربانی کر رہے ہیں کہ سارے مبلغوں کو وہ خرچ دے رہے ہیں حالانکہ وہاں تنخواہیں زیادہ ہیں۔مثلاً میرا بھتیجا مرزا مجید احمد جو کالج کا پرنسپل ہو کر وہاں گیا ہے اُسے گورنمنٹ نے ۱۶۰۰ روپے تنخواہ دی ہے