خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 689 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 689

خطابات شوری جلد سوم ۶۸۹ مجلس مشاورت ۱۹۵۷ء ضرورت بھی پوری ہو جائے گی۔آخر جو روپیہ بچتا ہے وہ ناظر صاحب بیت المال اپنی جیب میں تو نہیں ڈالتے ، سلسلہ پر ہی خرچ کرتے ہیں۔پس جب آمد بڑھے گی تو لاہور، کراچی، راولپنڈی اور دوسرے شہروں کی ضروریات ۱/۳ سے نہیں صرف گرانٹ سے ہی پوری ہو جائیں گی۔صحیح اصول یہی ہے کہ گرانٹ دی جائے مگر اس کے لئے دس فیصدی کی تعیین درست نہیں۔اصل طریق یہ تھا کہ مقامی جماعتوں کے حالات کے مطابق گرانٹ رکھی جاتی اور اس کے لئے کوئی فیصد رقم مقرر نہ کی جاتی تاکہ سلسلہ کے نمائندوں کو یہ حق حاصل رہتا کہ وہ اسے کم بھی کر سکتے۔اب دس فیصدی کی تعیین کے نتیجہ میں ایک رقم مخصوص ہو جاتی ہے۔اگر یہ کہا جاتا کہ بجٹ میں بارہ ہزار روپیہ گرانٹ کراچی کی رکھو یا اگر اُن کی آمد زیادہ ہے تو تیرہ ہزار، چودہ ہزار یا پندرہ سولہ ہزار رکھو تو پھر سلسلہ کے جو نمائندے ہیں ان کو یہ حق حاصل رہتا کہ وہ اسے کم بھی کر سکتے اور ہر سال بجٹ تیار ہونے سے پہلے مقامی جماعتوں کو اطلاع بھیجوا دی جاتی کہ اُن کا ایک ایک نمائندہ آجائے اور ہم سے براہ راست گفتگو کرے تا کہ یہ فیصلہ کیا جا سکے کہ اُن کی آمد کے لحاظ سے اور سلسلہ کی ضرورتوں کے لحاظ سے ہم اُن کو کتنی رقم دے سکتے ہیں۔اس کے نتیجہ میں خود اُن کو بھی اپنے چندے بڑھانے کا خیال رہتا اور دفتر بیت المال کو بھی اپنی آمد بڑھانے کا خیال رہتا۔اب بھی میں سمجھتا ہوں کہ اصل طریق یہی ہے کہ معین گرانٹ کا طریق جاری کیا جائے اور جماعتوں کے نمائندوں کو ہر سال اس پر رائے دینے کا موقع دیا جائے۔یہ فیصدی جو ہے اس نے سارا کام خراب کیا ہے اور اس دس فیصدی سے ۳۳ فیصدی کا مطالبہ شروع ہو گیا۔پھر بنگال والوں نے ستر فیصدی کا مطالبہ شروع کر دیا۔پھر کہہ دیا ہمارے چندہ کا ستر فیصدی بھی کافی نہیں ہمیں ہمارے چندہ کا ستر فیصدی بھی دے دو اور ۲۵ ہزار اور بھی دے دو۔کل ہی آپ لوگ تجویز کر رہے تھے کہ سکول کھولے جائیں۔مگر جب رقم ہی ساری خرچ کر لی جائے گی تو سکول کہاں سے کھولے جائیں گے۔میرے نزدیک جس طرح مرکزی اخراجات کو دیکھ کر اُن کے لئے بجٹ مقرر کیا جاتا ہے اسی طرح مقامی جماعتوں کی ضرورتوں کو دیکھ کر اُن کیلئے گرانٹ مقرر کرنی چاہئے۔چاہے وہ دس فیصدی چھوڑ ۳۳ فیصدی سے بھی بڑھ جائے۔۔