خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 685 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 685

خطابات شوری جلد سوم ۶۸۵ مجلس مشاورت ۱۹۵۷ء مقامی جماعتوں کو ضرورت کے مطابق گرانٹ سب کمیٹی بجٹ کی رپورٹ پر بحث کے دوران مکرم شیخ بشیر احمد صاحب لاہور نے یہ تجویز پیش دی جایا کرے فیصدی والا سسٹم نقصان دہ ہے کی کہ نئی ضروریات کے پیش نظر بڑی جماعتوں یعنی کراچی۔لاہور۔راولپنڈی۔پشاور اور ڈھا کہ کو اپنی آمد کا حصہ مقامی طور پر خرچ کرنے کی اجازت دی جائے۔اس تجویز پر تبصرہ کرتے ہوئے حضور نے فرمایا : -۔اصل تجویز تو شیخ بشیر احمد صاحب کی ہے کہ کراچی، لاہور اور راولپنڈی کو اُن کے چندوں کا بطور گرانٹ دیا جائے۔چندوں کو مد نظر رکھتے ہوئے اگر اس تجویز کو منظور کر لیا جائے تو قریباً دو لاکھ روپیہ بجٹ کی آمد سے کم ہو جاتا ہے۔ہمارا گل بجٹ بارہ لاکھ 99 ہزار کا ہے۔اگر یہ دولاکھ روپیہ اس سے نکال لیا جائے تو آمد دس لاکھ 99 ہزار بلکہ اس سے بھی کم رہ جاتی ہے اور اس دس لاکھ 99 ہزار روپیہ کی آمد سے بارہ لاکھ 99 ہزار کے اخراجات چلانا کسی انجمن کی طاقت سے باہر ہے۔درحقیقت یہ بحث اخراجات کی کمیٹی کے سامنے اُٹھانی چاہئے تھی کہ اس قدر اخراجات کم کر دیئے جائیں۔کالج بند کر دو، زنانہ کالج بند کر دو لنگر خانہ بند کر دو، نظارت امور عامہ بند کر دو، نظارت اصلاح وارشاد کے کارکنوں کو رخصت کر دو اور اخراجات کے بجٹ کو دس لاکھ ننانوے ہزار روپیہ پر لے آؤ۔ورنہ یہ کہ خرچ تو وہی رکھو اور آمد تقسیم کر دو۔یہ وہی بات ہے جیسے کوئی شخص ایک ناممکن چیز کی خواہش کرے یا جیسے بچے روتے ہیں تو کہتے ہیں ستارے دے دو۔دس لاکھ 99 ہزار روپیہ میں بارہ لاکھ ننانوے ہزار کے اخراجات کا بجٹ پورا کرنا بھی ستارے لانے والی بات ہے۔گل بجٹ جو بارہ لاکھ 99 ہزار روپے کا ہے اس میں سے دولاکھ روپے کی رقم کاٹ کر یہ کہنا کہ اخراجات وہی بارہ لاکھ 99 ہزار روپیہ کے رکھو ایک ناممکن العمل بات ہے۔اس لئے اس تجویز پر رائے دیتے وقت جماعت کو اس بات پر غور کرنا ہوگا کہ آیا اس بجٹ کو نامنظور کیا جائے یا رہنے دیا جائے کیونکہ دو لاکھ روپیہ کی تخفیف کے بعد خرچ نہیں چل سکتا۔خرچ پر بحث کے وقت تو دو ہزار روپیہ پر بحث ہوتی رہی ہے اور اب یکدم تخفیف کی تجویز پیش