خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 684 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 684

خطابات شوری جلد سوم ۶۸۴ مجلس مشاورت ۱۹۵۷ء پس ان کا یہ اقدام نہایت مستحسن ہے اور ہماری جماعتوں کو بھی چاہئے کہ جہاں جہاں وہ ہیں اس دن جبکہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے ملک کو آزادی بخشی ہے اور اسلامی حکومتوں میں ایک اور اسلامی حکومت کا اضافہ ہوا ہے خوشی منائیں ، چراغاں کریں اور غرباء میں کھانا تقسیم کریں۔پاکستان کو چھوٹا ملک ہے لیکن اپنے جائے وقوع اور آبادی کے لحاظ سے باقی تمام اسلامی ملکوں سے طاقتور ہے۔اس کی آبادی ۸ کروڑ سے زیادہ ہے اور پھر اسے ایسے سامان میسر ہیں کہ کوئی تعجب نہیں کہ دس پندرہ سال کے اندر ہمارے ملک کی آبادی بارہ تیرہ کروڑ ہو جائے اور اگر اللہ تعالیٰ کشمیر کو ادھر لے آیا اور خدا کرے کہ ایسا ہی ہو تو ایک دن میں ہی آبادی میں ایک کروڑ کی زیادتی ہو جائے گی اور کئی سامان ترقی کے پیدا ہو جائیں گے۔بہر حال ہمارا ملک جو اس وقت سارے اسلامی ممالک میں سب سے زیادہ آباد ہے اور سب سے زیادہ ذرائع ترقی کے رکھتا ہے اگر ترقی کرے تو یقیناً دوسری اسلامی حکومتیں بھی اس کے ساتھ ساتھ ترقی کریں گی اور اس کو اپنا لیڈر تسلیم کریں گی۔ابھی ہندوستان سے بعض جھگڑوں کی وجہ سے بعض ہمسایہ اسلامی حکومتیں اپنے آپ کو پاکستان سے زیادہ طاقتور سمجھتی ہیں۔مگر جس دن پاکستان اپنی مشکلات سے آزاد ہوا اس کی صنعت و حرفت نے ترقی کی اور اس کی طاقت بڑھ گئی تو ارد گرد کی اسلامی حکومتیں اس بات پر مجبور ہوں گی کہ اسے اپنا لیڈر تسلیم کریں۔پس احمدیوں کو اس تقریب میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا چاہیئے لیکن اس کے ساتھ ہی یہ بھی ضروری ہے کہ وہ وقار کو اپنے ہاتھ سے نہ جانے دیں۔دُعائیں کریں اور بڑی سنجیدگی کے ساتھ اس دن کو منائیں تا اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے پاکستان کی طاقت کو بڑھائے اور پھر اسلامی رُوح کو بھی بڑھائے کیونکہ خالی پاکستان کی ترقی اُس وقت تک مفید نہیں ہو سکتی جب تک کہ اسلامی روح بھی ترقی نہ کرے۔تاکہ ہم صرف اس پر خوش نہ ہوں کہ ہمیں ایک حکومت حاصل ہے بلکہ ہمیں وہ حکومت حاصل ہو جس میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا بھی حصہ ہو کیونکہ پھر صرف چھلکا ہی نہیں روح بھی ہمیں مل جائے گی۔“