خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 54 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 54

خطابات شوری جلد سوم ۵۴ مجلس مشاورت ۱۹۴۴ء حقدار ہے۔اور جس شہر یا گاؤں میں داخل ہو دریافت کرو کہ اس میں کون لائق ہے۔اور جب تک وہاں سے روانہ نہ ہو اُسی کے ہاں رہو۔اور گھر میں داخل ہوتے وقت اُسے دعائے خیر دو۔اور اگر وہ گھر لائق ہو تو تمہارا سلام اُسے پہنچے۔اور اگر لائق نہ ہو تو تمہارا سلام تم پر پھر آئے۔اور اگر کوئی تمہیں قبول نہ کرے اور تمہاری باتیں نہ سُنے تو اُس گھر یا اُس شہر سے باہر نکلتے وقت اپنے پاؤں کی گرد جھاڑ دو۔‘۱۵ اس میں حضرت مسیح علیہ السلام نے اپنے حواریوں کو یہ نصیحت کی ہے کہ جب تم تبلیغ کے لئے جاؤ تو تمہیں اس بات کی ضرورت نہیں کہ اپنی جیب میں پیسہ رکھو یا کھانے کا فکر کرو۔تمہارا کام صرف اتنا ہے کہ تم یہ دعا کرتے رہو کہ:۔”اے خدا ہماری روز کی روٹی آج ہمیں دے۔چنانچہ جس شہر یا گاؤں میں جاؤ، وہاں کے رہنے والوں سے اپنے لئے روٹی مانگو۔اگر وہ دے دیں تو خدا تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے کھالو اور اگر وہ انکار کریں تو اپنے پاؤں کی گرد جھاڑ کر وہاں سے نکل جاؤ اور اپنی زبان پر شکوہ کا کوئی حرف مت لاؤ۔اگر اس طرح کام کرنے والے ہمیں بھی میسر آ جائیں تو پھر پانچ ہزار مبلغوں کا بھی سوال نہیں، دو لاکھ مبلغ اس وقت ہمیں اپنی جماعت میں سے حاصل ہوسکتا ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنے اندر وہی روح پیدا کریں جو پہلے لوگوں نے پیدا کی۔اگر ہماری جماعت کا ہر فرد قربانی اور ایثار کے اس معیار پر آ جائے جس کا میں نے ابھی ذکر کیا ہے تو پھر اس امر کا بھی کوئی سوال نہیں رہے گا کہ کوئی شخص بی۔اے یا ایم۔اے پاس ہے یا نہیں، یا مولوی فاضل ہے یا نہیں کیونکہ اُس وقت ڈگریوں کی کوئی ضرورت نہیں ہو گی۔وہ مانگتے اور تبلیغ کرتے چلے جائیں گے۔ایک مدرس ہوگا تو وہ بھی یہی طریق اختیار کرے گا ، ایک پر وفیسر ہو گا تو وہ بھی ایسا ہی کرے گا، پھر ہماری تمام مشکلات حل ہو سکتی ہیں اور تبلیغ کا سوال جو روپیہ کے نہ ہونے کی وجہ سے ہمارے لئے بعض دفعہ پریشان کن صورت اختیار کر لیتا ہے وہ دیکھتے ہی دیکھتے حل ہوسکتا ہے۔در حقیقت بلند کاموں کی سرانجام دہی کے لئے ایک مستقل عزم اور ارادہ کی ضرورت