خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 682
خطابات شوری جلد سوم ۶۸۲ مجلس مشاورت ۱۹۵۷ء میری فریاد کو پہنچے۔قافلہ والے پاس سے گزر گئے اور کسی نے اس کی مدد نہ کی۔وہ آپس میں یہ باتیں کرنے لگے کہ عجیب بے وقوف عورت ہے اس کو اتنا بھی پتہ نہیں کہ اب امیر المومنین کی کوئی طاقت نہیں۔جب قافلہ بغداد پہنچا تو کچھ لوگ سودا وغیرہ خریدنے کے لئے آئے۔تو اُنہوں نے دریافت کیا کہ کوئی عجیب واقعہ آپ کے ساتھ گزرا ہو تو بتاؤ۔اس پر قافلہ کے بعض لوگوں نے بتایا کہ ہم نے واپسی پر یہ عجیب واقعہ دیکھا کہ ایک عورت کو عیسائی پکڑے لئے جارہے تھے اور وہ یا للامیر المومنین ! کے نعرے لگا رہی تھی۔شاید اُس کو یہ پتہ ہی نہیں تھا کہ ہمارے خلیفہ کی آجکل کوئی طاقت نہیں۔کسی درباری نے بھی یہ بات سُن لی۔وہ دربار میں گیا تو اس نے عباسی خلیفہ سے کہا کہ اے امیر المومنین ! آج ایک قافلہ شام سے واپس آیا ہے اور اُس نے یہ خبر سُنائی ہے کہ اِس اِس طرح شام کی ایک مسلمان عورت کو عیسائی پکڑ کے لئے جا رہے تھے اور اُس نے یہ نعرہ لگایا کہ اے امیرالمومنین ! میری فریاد کو پہنچیو۔حضور اس کو اتنا بھی پتہ نہیں تھا کہ بغدادی حکومت اب اتنی کمزور ہو چکی ہے۔جب خلیفہ نے یہ بات سنی تو گو اس کے پاس کوئی فوج نہیں تھی ، سارے علاقے باغی ہو چکے تھے اور ہر صوبہ میں الگ حکومت قائم ہو چکی تھی ، وہ اُسی وقت تخت سے نیچے اُتر آیا اور کہنے لگا خدا کی قسم ! جب تک میں اس مسلمان عورت کو چھڑا کر نہیں لاؤں گا اُس وقت تک میں تخت پر نہیں بیٹھوں گا۔یہ کہہ کر وہ اُٹھا، تھا تو وہ ایک دکھاوے کا حکمران لیکن یہ خبر بجلی کی طرح سارے علاقوں میں پھیل گئی اور جس جس صوبہ میں گئی وہاں سے فوراً نیم بادشاہ اپنی فوجیں لے کر اسلامی خلافت کے ماتحت چل پڑے کہ جدھر خلیفہ جائے گا اُدھر ہی ہم جائیں گے اور آناً فاناً ایک بہت بڑا لشکر بغداد کے ارد گرد جمع ہو گیا۔یہ لشکر خلیفہ کی کمان میں آگے بڑھا اور اُس نے عیسائیوں کو شکست دی اور اس طرح خلیفہ اُس عورت کو چھڑا کر واپس لے آنے میں کامیاب ہو گیا تو یہ طاقت کی بات تھی۔گو اس وقت مسلمانوں کی حالت نہایت نا گفتہ بہ تھی۔پھر بھی اس کی مثال ایسی ہی تھی جیسے کہتے ہیں کہ ہاتھی زندہ لاکھ کا مُردہ سوالاکھ کا۔گو اُس وقت مسلمان گر چکے تھے لیکن پھر بھی اُن میں اتنی طاقت تھی کہ یورپ کی فوجیں کا نپتی ہوئی اُن کے آگے سے بھاگ جاتی تھیں۔سپین تو یورپ کا ایک حصہ ہے مگر اس وقت مکہ میں سارے یورپ کی فوجیں تھیں جنہیں مسلمانوں نے شکست دی۔