خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 674 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 674

خطابات شوری جلد سوم ۶۷۴ مجلس مشاورت ۱۹۵۷ء لڑکیوں کو حصہ دیا کریں۔اگر کسی نے اپنی لڑکی کو جائیداد سے حصہ دیا ہوگا تو وہ بیوہ بھی ہوگی تو صاحب جائیداد ہوگی اور اگر کسی نے اپنی بیوی کو حصہ دیا ہوگا یا اس کے مرنے کے بعد اس کی اولا د نے اپنی ماں کو اپنے باپ کی جائیداد سے حصہ دیا ہو گا تب بھی وہ صاحب جائیداد ہو گی۔بہر حال یہ جھگڑا ختم ہو جاتا ہے کہ ہم عورت کی وصیت کے لئے کوئی معیار مقرر کریں۔جائیداد کی تعیین کے لئے ہمیں فکر نہیں کرنی چاہئے۔کیونکہ تعین وہی درست ہے جو خاوند نے کر دیا ہے اور جو خود عورت نے کر دیا ہے۔اُسے خواہ مخواہ جھوٹا کرنے اور بات کے کریدنے کی ضرورت نہیں۔مثلاً اگر ایک مرد ہمارے پاس آ کر کہتا ہے کہ میری سور و پیہ ماہوار تنخواہ ہے، میں دس روپے چندہ دیتا ہوں تو ہم اس بات کی تردید نہیں کیا کرتے کہ اس کی تنخواہ سو روپیہ ماہوار نہیں بلکہ ڈیڑھ سو روپیہ ماہوار ہے۔ہمیں معلوم ہے کہ بعض لوگ عمداً سو روپیہ آمد لکھواتے ہیں اور پھر ٹیوشن کرتے ہیں اور سو سو روپیہ اُن سے بھی کما لیتے ہیں اور اُس سے چندہ نہیں دیتے۔ہم سمجھتے ہیں اُنہوں نے تو خدا تعالیٰ سے اپنے اخلاص کا بدلہ لینا ہے۔آخر جنت ہمارے پاس تو نہیں جو ہم نے اُسے دے دینی ہے جنت تو خدا تعالیٰ کے پاس ہے۔اگر وہ ہم سے دھوکا کرے گا تو اس کا بدلہ بھی کم ہو جائے گا۔ہم نے صرف ظاہر پر عمل کرنا ہے۔پس چاہئے کہ اصلاح وارشاد والے جماعت کے مردوں پر زور دیں کہ وہ اپنی جائیدادوں سے اپنی عورتوں کو بھی حصہ دیں یا اپنی اولاد کو وصیت کر جائیں کہ وہ اُن کے ترکہ سے اُن کی بیویوں کو حصہ دے۔گورنمنٹ نے تو اس قسم کا قانون بنا دیا ہوا ہے لیکن پہلو بچانے والے کسی نہ کسی طرح اپنا پہلو بچا ہی لیتے ہیں۔بہر حال میری تجویز یہ ہے کہ اگر آپ لوگ متفق ہوں تو فی الحال یہ تجویز کر دیا جائے کہ عورتوں کا مہر اُن کی جائیداد سمجھ لیا جائے۔اس کے علاوہ کسی عورت کی اگر کوئی اور جائیداد بھی ہو تو وہ بھی وصیت میں لکھوا دی جائے لیکن اگر وہ کہہ دے کہ اس کے علاوہ میری کوئی جائیداد نہیں تو ہمیں گریدنے کی کوئی ضرورت نہیں۔مہر وہ چیز ہے جو خدا تعالیٰ نے مقرر کی ہے۔اگر وہ کہے کہ میرا ہر کوئی نہیں تو ہم کہیں گے کہ تیرا نکاح بھی کوئی نہیں۔پس یا تو اُسے اپنا مہر بتانا پڑے گا یا خاوند سے بھی طلاق لینی پڑے گی۔اس کے سوا اور کوئی صورت نہیں ہو گی۔بہر حال جو چیز خدا تعالیٰ نے ہمارے لئے آسان کر دی ہے اس کے لئے