خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 672
خطابات شوری جلد سوم ۶۷۲ مجلس مشاورت ۱۹۵۷ء پڑھتے پڑھتے جماعت کے افراد سے اس کا اثر مٹ جائے گا۔وہ سمجھیں گے کہ لسٹ میں نام آئے یا نہ آئے ہمیں اس کی کوئی پرواہ نہیں۔پس تم اس بات کو رہنے دو اور یہ بات اُن کے ایمان پر چھوڑو اور یہ کہو کہ اسلام کو تبلیغ کی ضرورت ہے اور مبلغوں کو روپیہ کی ضرورت ہے۔اس طرح بڑی مشکل سے کہہ کہہ کر میں نے اس میں کمی کرائی ہے۔غرض ناظر صاحب اعلیٰ نے صیغہ جات کی طرف سے جو رپورٹ پیش کی ہے وہ اُن صیغہ جات کے ناظروں کو پیش کرنی چاہئے تھی اور خود اُن کو یہ بتانا چاہئے تھا کہ فلاں فلاں ماہ میں فلاں فلاں دفتر میں گیا ہوں اور دفاتر کا معائنہ کیا ہے۔پھر ناظروں سے کہنا چاہئے تھا کہ وہ سٹیج پر آئیں اور بتائیں کہ انہوں نے کیا کچھ کیا ہے۔“ مشاورت میں سب کمیٹی وصیت کے لئے عورت کی اصل جائداد اُس کا مہر ہے بہشتی مقبرہ کی رپورٹ پیش ہوئی کہ عورتوں کے لئے کم از کم جائداد جس پر وصیت ہو سکے پانچ سو روپے ہونی چاہئے۔چند ممبران نے اس بارہ میں اپنی آراء بیان کیں۔اس کے بعد حضور نے فرمایا : - چونکہ تجویز کی دونوں شقیں الگ الگ پیش نہیں ہوئیں اس لئے میں سمجھتا ہوں کہ بات واضح نہیں ہوئی۔میرے نزدیک اس وقت دو ہی تجویز میں غور کے قابل تھیں اور انہیں پر بات کو محدود رکھا جاتا تو کسی فیصلہ تک پہنچنے میں آسانی ہو سکتی تھی۔ایک بات تو میاں عطا اللہ صاحب نے بیان کی ہے کہ وصیت کے لئے کوئی حد بندی لگانا جائز نہیں۔دوسرے ایک دوست نے کہا ہے کہ عورت کی اصل جائیداد اُس کا مہر ہے۔میرے نزدیک بھی اگر مہر پر بنیا د رکھ دی جائے تو یہ سارے جھگڑے ختم ہو جاتے ہیں کیونکہ شریعت نے کہا ہے کہ مہر مرد کی حیثیت کے مطابق مقرر کیا جائے۔پس میرے نزدیک اگر آپ سب مجھ سے متفق ہوں تو میں سمجھتا ہوں کہ یہ قاعدہ بنا دیا جائے کہ ہر عورت کی وصیت پر اُس کے خاوند کے بھی دستخط لئے جائیں اور یہ شرط کر دی جائے کہ اگر تم نے اپنی بیوی کو مہرادا کیا تو وصیت کا حصہ ہمیں ادا کرنا۔مثلاً اگر پانچ سو روپیہ مہر ہے تو پانچ سو روپیہ دیتے وقت پچاس روپے ہمیں دینے ہوں گے۔اگر تم نے اُس کی موت کے وقت کہہ دیا کہ اُس نے اپنا مہر مجھے