خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 669
خطابات شوری جلد سوم ۶۶۹ مجلس مشاورت ۱۹۵۷ء بہت سے آدمیوں کو کام سپرد کر دیا جاتا تھا اور لوگوں میں تعلیم کی تلقین کی جاتی تھی۔مثلاً آپ نے فرمایا کہ اگر کسی کی دولڑ کیاں ہوں اور اُن کی والدہ انہیں اچھی تعلیم دے، اُن کی تربیت کرے تو اُس کو جنت میں مقام ملتا ہے۔اب ہر عورت کو شوق آیا کہ وہ جنت میں مقام حاصل کرے اور اُس نے اپنی لڑکیوں کو تعلیم دینا شروع کی۔اسی طرح اگر ہر جگہ پر علماء ہوں اور وہ امام مسجد بھی ہوں اور مدرس بھی ہوں تو کام بڑی آسانی سے ہوسکتا ہے۔انہیں بتایا جائے کہ نماز پڑھانا بھی تمہارے کورس میں شامل ہے۔اگر علاقہ وسیع ہو جائے تو اس کے طالب علم دوسری جگہوں پر اس کام کو سنبھال لیں۔چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مجلس میں صحابہ اسی طرح تعلیم لے کر جایا کرتے تھے۔ایک دفعہ ایک گاؤں والوں نے آ کر کہا کہ یا رسول اللہ ! ہمارے ہاں کوئی قرآن کریم پڑھانے والا نہیں، آپ ہمیں ایک مدرس دے دیں۔آپ نے انہیں ایک لڑکا دے دیا جو کوئی گیارہ بارہ برس کا تھا اور فرمایا یہ تمہارا امام ہے۔چنانچہ وہ اس کو ساتھ لے گئے۔وہ لڑکا رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مجلس میں بیٹھا کرتا تھا اور قرآن کریم پڑھنا سیکھتا تھا جب وہ اس گاؤں میں گیا تو چونکہ وہ ایک غریب گھرانہ کا ایک فرد تھا اس کے پاس تہہ بند یا پاجامہ نہیں تھا۔وہ اس ملک کے رواج کے مطابق صرف گرتہ پہن لیتا تھا لیکن چونکہ وہ گر تہ لمبا نہیں تھا چھوٹا تھا اس لئے جب وہ سجدہ میں جاتا تو ننگا ہو جاتا۔ایک دفعہ سجدہ کی حالت سے عورتوں نے سر اُٹھایا تو اُنہوں نے اُس کے ننگ کو دیکھ لیا۔اُنہوں نے مردوں سے کہا مسلمانو! تم اپنے امام کا ننگ تو ڈھانکو۔اب دیکھو اس طریق سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تمام لوگوں کو نمازیں اور قرآن کریم پڑھنا سکھا دیا۔پھر آپ لوگوں کو تعلیم دینے کے لئے ایک یہ طریق بھی اختیار فرماتے تھے کہ جنگ کے قیدی آتے تو انہیں فرماتے میں تمہیں چھوڑ دوں گا لیکن شرط یہ ہے کہ سال بھر مدینہ میں رہو اور یہاں کے رہنے والوں کو پڑھنا لکھنا سکھا دو۔اس طرح آپ نے مدینہ کے سارے مسلمانوں کو پڑھنا لکھنا سکھا دیا۔ایک زمانہ تھا کہ سارے مکہ میں صرف اٹھارہ پڑھے لکھے آدمی تھے مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے قریب زمانہ میں مدینہ میں ہر شخص پڑھا ہوا تھا۔