خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 668 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 668

خطابات شوری جلد سوم ۶۶۸ مجلس مشاورت ۱۹۵۷ء میرے نزدیک اگر امام سے ہی معلم کا کام لیا جائے تو ہماری مسجد میں بھی آباد ہو جائیں اور مدرسہ بھی قائم ہو جائے۔پھر یہ سہولت بھی ہوگی کہ ہمیں مدرسہ کے لئے کسی عمارت کی بھی ضرورت نہیں ہوگی۔وقت مقرر کر دیا جائے کہ فلاں وقت بوڑھے پڑھنے کے لئے آئیں اور فلاں وقت بچے پڑھنے کو آئیں۔اس سے تعلیم بڑی آسانی کے ساتھ وسیع ہوسکتی ہے۔پھر جو تعلیم اپنی زبان میں دی جاتی ہے وہ تھوڑی سی محنت سے کامیاب ہو جاتی ہے۔میں سمجھتا ہوں اس سادہ طریق سے بچہ ایک سال میں ایسا سمجھدار ہو جائے گا کہ وہ اعلیٰ درجہ کی کتابیں بھی پڑھ سکے گا اور ادھر ہر علاقہ میں ہمارا ایک آدمی بیٹھا ہو گا اور اس کے ذریعہ سے علاقہ میں تبلیغ بھی ہو جائے گی اور ہم بغیر کسی خرچ کے ساری جماعت میں تعلیم پھیلا سکیں گے۔پھر ہمارے زمانہ میں تعلیم کا یہ طریق ہوا کرتا تھا کہ مدرسوں کے خلیفے ہوتے تھے اور وہ خلیفوں کو حکم دیتے تھے کہ اتنے لڑکے لے لو اور اُنہیں پڑھاؤ۔مجھے یاد ہے جب ہم بچے ہوتے تھے اور ہماری والدہ دتی جاتی تھیں تو وہ ہماری تعلیم کے حرج کے خیال سے پاس ہی ایک مدرسہ میں ہمیں داخل کر دیتی تھیں۔اس سکول کی مدرسہ ایک عورت تھی۔۱۹۴۰ء میں جب میں دتی گیا تھا تو وہ گھر دیکھ کے آیا تھا جہاں وہ اُستانی رہا کرتی تھیں۔لوگوں نے مجھے بتایا کہ وہ اُستانی تو آب چلی گئی ہیں لیکن یہ وہ مکان تھا جو اُنہوں نے خرید لیا تھا اور اسی میں وہ پڑھایا کرتی تھیں۔وہ پڑھانیوالی صرف ایک تھی۔۷۰ ۸۰ لڑکے لڑکیاں تھے۔اس لئے اُس نے سہولت کی خاطر اپنے بعض خلیفے بنائے ہوئے تھے۔وہ صبح انہیں بلاتی اور سبق دے دیتی اور پھر وہ آگے دوسرے لڑکے لڑکیوں کو پڑھانے لگ جاتے۔اسی طرح جو اُستاد اور علماء ہم جماعتوں میں مقرر کریں وہ ہوشیار طالب علموں کو چن چن کر خلیفے بناتے چلے جائیں اور اُن کے سپرد بعض طالب علم کرتے جائیں۔اپنا کام اُن کا وہی ہو جو میں نے ناظر اعلیٰ کا بتایا ہے کہ وہ یہ دیکھتے رہیں کہ خلیفہ کیسا کام کر رہا ہے۔اگر وہ ٹھیک پڑھا رہا ہے تو اُس کو شاباش دیں اور اگر وہ غلط پڑھا رہا ہو تو اُس کو تنبیہ کریں اس طرح تعلیم اچھی ہوسکتی ہے۔ورنہ ہمارے پاس روپیہ نہیں۔ہمارے باپ دادوں نے یہی کام کیا تھا اور سارے ملک کو تعلیم دے دی تھی۔آخر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھو کہ کتنی بڑی قوم اُن کے سپرد تھی لیکن تھوڑے عرصہ میں ہی آپ نے اُس سب قو م کو تعلیم دے دی اور وہ اسی طرح تھی کہ