خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 667
خطابات شوری جلد سوم مجلس مشاورت ۱۹۵۷ء ایک طریق یہ ہے کہ سبز کھاد دبا کر پانی دے دیا جائے اور اس طرح اُسے گلا دیا جائے۔اس میں آگے یہ ہوتا ہے کہ پانی کی زیادتی اور کمی کا خیال رکھنا پڑتا ہے کہ پانی کم موزوں ہے یا زیادہ موزوں ہے۔غرض مختلف طریقے تھے جن سے وہ فائدہ اُٹھا سکتے تھے۔پھر دُور جانے کی ضرورت نہیں تھی یہیں ہمارے سامنے مغربی پاکستان کے انٹا مالوجسٹ بیٹھے ہیں ان سے ملتے اور کہتے کہ فصلوں کو بالعموم کیڑے کھا جاتے ہیں۔آپ میرے ساتھ اپنا کوئی افسر بھجوائیں جو ہمیں بتائے کہ کیڑوں کا کیا علاج کرنا چاہئے اور کس وقت کرنا چاہئے۔مثلاً میں نے اُن سے کہا تھا کہ ہماری فصل کو کیڑا لگ گیا تھا، آپ کی تجویز کردہ دوائی چھڑ کوائی بھی لیکن پھر بھی کیڑ افصل کھا گیا۔اس پر انہوں نے بتایا کہ آپ کے افسر جب فصل کو کیڑا لگ جاتا ہے تو پھر دوائی چھڑ کنے والوں کو بلواتے ہیں۔حالانکہ دوائی کیڑا لگنے کے موسم سے پہلے پچھڑ کوانی چاہئے۔آپ انہیں ہدایت فرمائیں کہ کیڑا لگنے کے موسم سے پہلے دوائی چھڑ کو الیا کریں، ورنہ بعد میں دوائی چھڑ کوانے کا زیادہ فائدہ نہیں ہوتا۔بہر حال اس قسم کی کئی باتیں ہیں جو اگر انسپکٹر زراعت جماعتوں میں جا کر بتاتے تو ہر ضلع میں اُن سے فائدہ اُٹھایا جا سکتا تھا۔نظارت تعلیم کو ہدایات اسی طرح اختر صاحب نے تعلیم کے متعلق بھی جو باتیں کہی ہیں اگر وہ باتیں ناظر تعلیم پیش کرتے تو چونکہ وہ اس فن کے ماہر ہیں اس لئے ہم اُن سے پوچھتے کہ جو جو باتیں آپ نے کہی ہیں وہ عقلی بھی ہیں یا نہیں؟ مثلاً کیا ہمارے پاس اتنا روپیہ ہے کہ ہم ساری جماعت میں سکول کھلوائیں۔یا اگر ہم پانچ سکول کھول دیں تو ہماری ساری جماعت تعلیم یافتہ ہو سکتی ہے۔ہم کو تو ایسا طریق اختیار کرنا چاہئے کہ جس سے زیادہ سے زیادہ تعلیم ہماری جماعت میں پھیل سکے اور اس کے لئے ایک طریق تو یہ ہے کہ ہم گورنمنٹ سے اپیل کریں اور اُس کے افسروں سے تعاون لیں اور کہیں کہ جہاں جہاں ہماری جماعت زیادہ ہے وہاں آپ ایک سکول کھول دیں۔دوسرا طریق یہ ہے کہ مساجد کے ذریعہ سے تعلیم کو وسیع کیا جائے۔ہمارے ہاں یہ رواج ہے کہ جو عالم باہر جاتا ہے وہ اپنے آپ کو مبلغ کہلانے میں فخر محسوس کرتا ہے۔حالانکہ ہمارے پرانے بزرگ معلم کہلانے میں فخر محسوس کیا کرتے تھے۔پھر یہ بھی وقت ہے کہ امام الصلوۃ نہیں ملتے۔