خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 666
خطابات شوری جلد سوم ۶۶۶ مجلس مشاورت ۱۹۵۷ء اُس نے واپس جا کر اپنے افسر سے بات کی تو وہ مجھے ملنے کے لئے آیا اور اُس نے شکریہ ادا کیا کہ آپ نے میری توجہ اس طرف پھرائی ہے، میں اپنی رپورٹ میں اس بات کا خیال رکھوں گا۔تو اس میں کوئی شبہ نہیں کہ بھلوال کی جو باتیں ہیں وہ سیالکوٹ پر چسپاں نہیں ہوں گی لیکن سیالکوٹ میں اس کا تجربہ کیا جا سکتا ہے اور اس سے پتہ لگ جائے گا کہ اس میں کیا کیا نقائص ہیں۔پس انسپکٹر زراعت کو چاہئے تھا کہ وہ بھلوال کا دورہ کرتے اور پھر جماعتوں میں جا کے کہتے کہ یہ یہ بیج استعمال کرو۔اگلے سال وہ جاتے تو زمیندار کہتے ہماری فصل ماری گئی ہے یا دُگنی ہوگئی ہے اور یہ اس بات کو نوٹ کر لیتے کہ ضلع سیالکوٹ میں فلاں بیج اچھا ہے۔پھر اگلی جماعتوں میں جاتے کہ کھا د اتنے اتنے وزن میں استعمال کرو۔مثلاً میں نے قادیان میں بھی دیکھا ہے کہ میں نے ایک آم کو مصنوعی کھاد ڈلوائی اور وہ مر گیا۔اسی طرح ہم نے یہاں بھی تجربہ کیا کہ مصنوعی کھاد ڈالنے سے ایک پودا مر گیا تو بعض جگہ مصنوعی کھاد ایک خاص مقدار میں مفید ہوتی ہے اس سے بڑھ جائے یا کم ہو جائے تو اس سے کوئی فائدہ نہیں پہنچ سکتا۔پس انسپکٹر زراعت کو چاہئے تھا کہ وہ بھلوال جاتے اور وہاں کے تجربوں سے فائدہ اُٹھاتے اور پھر خود تجربے کرتے اور اگلے سال وہ کھاد کی نوعیت اور پیج بناتے۔پھر وہ بتاتے کہ سبز کھاد استعمال کرو۔آگے سبز کھاد کئی قسم کی ہے۔وہ جماعتوں میں جاتے اور دیکھتے کہ وہاں بڑی بڑی فصلیں کون سی ہیں اور ان کے کاشت کے موسم کون کونسے ہیں۔پھر دیکھتے کہ اُن کے درمیان میں کون سی سبز کھاد بوئی جاسکتی ہے۔برسیم ہوئی جاسکتی ہے یا گوارا بویا جا سکتا ہے تاکہ وہ پھر دفن ہو سکے اور دوبارہ فصل اچھی ہو سکے۔پھر اس کھاد کے دبانے کا عرصہ مختلف علاقوں میں مختلف ہوتا ہے۔بعض زمینیں ایسی ہوتی ہیں کہ وہ بہت جلد کھا د کو کھا جاتی ہیں اور اس کو اس قابل بنا دیتی ہیں کہ اس سے اگلی فصل اچھی ہو اور بعض علاقوں میں اس کو قابلِ استعمال ہونے میں بہت دیر لگتی ہے۔انسپکٹر زراعت جماعتوں میں جاتے اور کہتے کہ سبز کھاد کے طور پر فلاں فصل بونا اور پھر اُس کو دفن کر کے اتنی دیر تک زمین خالی پڑی رہنے دینا اور اس کے اتنے عرصہ بعد فلاں فصل بونا۔پھر بعض عارضی طریقے سبز کھاد بنانے کے لوگوں نے ایجاد کئے ہوئے ہیں۔مثلاً