خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 664
خطابات شوری جلد سوم ۶۶۴ مجلس مشاورت ۱۹۵۷ء اُس کے پاس زراعت کے وہ افسر ہیں جو اس محکمہ کا پچاس پچاس سالہ تجربہ رکھتے ہیں۔اور وہ امریکہ سے ہو آئے ہیں یا جاپان سے ہو آئے ہیں اور اُن کی نظر بڑی وسیع ہے۔پھر گورنمنٹ سارے مغربی پاکستان میں زراعت کے لئے کچھ نہ کچھ کر رہی ہے۔اصل چیز یہ تھی کہ بجائے اس کے کہ یہ کہا جاتا کہ انسپکٹر زراعت دورے کر رہے ہیں اور دورے کریں گے اور انشاء اللہ ایک ایسا تیر ماریں گے کہ اس سے آسمان بھی ہل جائے گا۔یہ کہتے کہ اس نے فلاں افسر سے مل کر فلاں فلاں معلومات حاصل کی ہیں جو جماعت کے لئے مفید ہوں گی۔اگر وہ اخبار میں پڑھتے تو وہ جانتے کہ تھوڑے ہی دن ہوئے گورنمنٹ نے یہ اعلان کیا تھا کہ زراعت کی ایک سکیم بھلوال میں چلائی گئی ہے اور وہاں مختلف ٹیسٹ کئے جا رہے ہیں۔بعض ٹیسٹ تو اس بات کے کئے جا رہے ہیں کہ بیج اگر اچھا استعمال کیا جائے تو کتنی فیصدی ترقی ہو سکتی ہے۔بعض ٹیسٹ یہ کئے جارہے ہیں کہ اگر مصنوعی کھاد ڈالی جائے تو اس سے کتنی ترقی ہو سکتی ہے۔غرض زمینداروں کی ترقی سے تعلق رکھنے والی جو چیزیں ہیں اُن کے ٹیسٹ وہاں کئے جار ہے ہیں۔اب بجائے اس کے کہ انسپکٹر زراعت ڈیرہ غازی خان، تقل یا پشاور جاتا وہ بھلوال میں جاتے اور دو تین دن ٹھہر کر دیکھتے کہ وہاں کیا کام ہو رہا ہے۔گورنمنٹ یہ تو نہیں کر سکتی کہ اپنا منتخب علاقہ چھوڑ دے لیکن یہ تو ہوسکتا تھا کہ ہمارے انسپکٹر زراعت اُن سے کوئی سبق حاصل کرتے اور پھر زمینداروں کا بتاتے کہ میں گورنمنٹ کے ماہرین سے فلاں سبق لے کر آیا ہوں اُنہوں نے فلاں قسم کا بیج چنا ہے، اُس کے بونے سے فصل میں ترقی ہو سکتی ہے۔پھر اس پیج کا تجربہ کر کے بتاتے کہ فی الواقع یہ بیج زمینداروں کے لئے مفید ہے تم اس پیج کو استعمال کرو اور فلاں فلاں ہدایت کو مدنظر رکھو۔پھر ہر علاقہ کا الگ بیج ہوتا ہے۔ہمارے زراعت کے افسر کو چاہئے تھا کہ وہ مثلاً سیالکوٹ جاتے اور وہاں ماہرین سے پوچھتے کہ آپ کے ہاں کپاس کے بیج کا کون سا تجربہ کامیاب رہا ہے؟ گندم کے بیج کا کون سا تجربہ کامیاب رہا ہے؟ گتا کے بیج کا کون سا تجربہ کامیاب رہا ہے؟ اور پھر جماعتوں کو اس سے مطلع کرتے۔ہم جب گورداسپور کے ضلع میں رہا کرتے تھے تو گورنمنٹ کے زراعت کے افسر مجھے ملا کرتے تھے اور بتایا کرتے تھے کہ گورنمنٹ نے اس علاقہ کے لئے گنا کا فلاں پیج تجویز کیا ہے بلکہ اُنہیں اتنا خیال ہوتا تھا