خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 661
خطابات شوری جلد سوم ۶۶۱ مجلس مشاورت ۱۹۵۷ء جائے گا اور اس کے بعد ایسے شخص کو کسی مقامی یا مرکزی عہدہ پر مقرر نہ کیا جائے گا اور نہ ہی ایسا شخص مجلس شوریٰ کا ممبر بننے کا اہل ہوگا۔حضور نے فرمایا۔اس کے متعلق کسی کمیٹی کے مقرر کرنے کی ضرورت نہیں۔چھوٹا سا مسئلہ ہے جو دوست اس بات کے حق میں ہوں کہ جس شخص کے متعلق سلسلہ یہ فیصلہ کرے کہ اس نے سلسلہ احمدیہ کے خلاف کسی کا رروائی میں حصہ لیا ہے اُس کو خدمتِ سلسلہ کے کام سے برطرف کر دیا جائے۔اُسے کسی جماعت میں عہدیدار مقرر نہ کیا جائے اور نہ اس کو ممبر بنایا 66 جائے ، وہ کھڑے ہو جائیں۔‘“ رائے شماری پر تمام نمائندگان نے اس تجویز کے حق میں رائے دی۔حضور نے فرمایا :- جماعت کی متفقہ رائے کی وجہ سے میں نظارت علیا کی اس تجویز کی منظوری دیتا ہوں۔“ دوسرا دن رپورٹ تعمیل فیصلہ جات پر تبصرہ مجلس مشاورت کے دوسرے دن ۱۲ مارچ ۱۹۵۷ء کو محترم میاں غلام محمد اختر صاحب ناظر اعلی ثانی و ناظر زراعت نے رپورٹ تعمیل فیصلہ جات پڑھ کر سنائی۔اس پر تبصرہ کرتے ہوئے حضور نے فرمایا:- ”سب سے پہلے تو میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ کل جلسہ کی کارروائی میں پورا وقت شامل ہونے کے باوجود میری طبیعت خدا تعالیٰ کے فضل سے اچھی رہی لیکن صبح بارش کی وجہ سے خراب ہو گئی۔جلسہ سالانہ کے بعد میں نے دیکھا ہے کہ اکثر بارش اور ہوا رہتی ہے جس کی وجہ سے میری طبیعت خراب ہو جاتی ہے لیکن رہی سہی کسر اختر صاحب نے نکال دی ہے۔ناظر اعلیٰ کے فرائض اول تو تعمیل فیصلہ جات کے متعلق یہ کوئی عقل کی بات نہیں کہ ناظر اعلیٰ خود رپورٹ پیش کرے۔کیا صیغہ جات کے ناظروں