خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 651 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 651

خطابات شوری جلد سوم ۶۵۱ مجلس مشاورت ۱۹۵۷ء کے عین مطابق ہے کہ آئندہ خلافت کے انتخاب میں مجلس شوری کے جملہ ممبران کی بجائے صرف ناظران صدر انجمن احمدیه ممبران صدر انجمن احمدیہ، وکلاء تحریک جدید، خاندان حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زندہ افراد ( جن کی تعداد اس غرض کے لئے اس وقت تین ہے۔یعنی حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب، حضرت صاحبزادہ مرزا شریف احمد صاحب اور حضرت نواب میاں عبداللہ خان صاحب) جامعتہ المبشرین کا پرنسپل۔جامعہ احمدیہ کا پرنسپل اور مفتی سلسلہ احمدیہ مل کر فیصلہ کیا کریں۔مجلس انتخاب خلافت کے اراکین میں اضافہ جلسہ سالانہ ۱۹۵۶ء کے بعد حضرت۔۔۔۔خلیفة المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے علماء سلسلہ اور دیگر بعض صاحبان کے مشورہ کے مطابق مجلس انتخاب خلافت میں مندرجہ ذیل اراکین کا اضافہ فرمایا۔ا۔مغربی پاکستان کا امیر اور اگر مغربی پاکستان کا ایک امیر مقرر نہ ہوتو علاقہ جات مغربی پاکستان کے امراء جو اس وقت چار ہیں۔۲۔مشرقی پاکستان کا امیر۔۳۔کراچی کا امیر ۴۔تمام اضلاع کے امراء ۵۔تمام سابق امراء جو دو دفعہ کسی ضلع کے امیر رہ چکے ہوں۔گو انتخاب خلافت کے وقت امیر نہ ہوں۔( ان کے اسماء کا اعلان صدرانجمن احمد یہ کرے گی ) ۶۔امیر جماعت احمدیہ قادیان۔۷۔ممبران صدر انجمن احمد یہ قادیان تمام زنده صحابه کرام کو بھی انتخاب خلافت میں رائے دینے کا حق ہوگا۔(اس غرض کے لئے صحابی وہ ہوگا جس نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو دیکھا ہو اور حضور کی باتیں سُنی ہوں ا ہوں اور ۱۹۰۸ء میں حضور علیہ السلام کی وفات کے وقت اس کی عمر کم از کم بارہ سال کی ہو۔صدر انجمن احمد یہ تحقیقات کے بعد صحابہ کرام کے لئے سرٹیفیکیٹ جاری کریگی اور ان کے ناموں کا اعلان کرے گی )