خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 652 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 652

خطابات شوری جلد سوم ۶۵۲ مجلس مشاورت ۱۹۵۷ء۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اولین صحابیوں میں سے ہر ایک کا بڑا لڑکا انتخاب میں رائے دینے کا حقدار ہو گا بشرطیکہ وہ مبائعین میں شامل ہو۔(اس جگہ صحابہ اولین سے مراد وہ احمدی ہیں جن کا ذکر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ۱۹۰۱ء سے پہلے کی کتب میں فرمایا ہے ( ان کے ناموں کا اعلان بھی صدر انجمن احمد یہ کرے گی ) ۱۰۔ایسے تمام مبلغین سلسلہ احمدیہ جنہوں نے کم از کم ایک سال بیرونی ممالک میں تبلیغ کا کام کیا ہو اور بعد میں تحریک جدید نے کسی الزام کے ماتحت اُنہیں فارغ نہ کر دیا ہو۔( اُن کو تحریک جدید سرٹیفیکیٹ دے گی اور اُن کے ناموں کا اعلان کرے گی )۔ایسے تمام مبلغین سلسلہ احمدیہ جنہوں نے پاکستان کے کسی صوبہ یا ضلع میں رئیس التبلیغ کے طور پر کم از کم ایک سال کام کیا ہو اور بعد میں اُن کو صدرا انجمن احمدیہ نے کسی الزام کے ماتحت فارغ نہ کر دیا ہو۔( اُنہیں صدر انجمن احمد یہ سرٹیفیکیٹ دے گی اور اُن کے ناموں کا اعلان کرے گی ) مجلس انتخاب خلافت کا دستور العمل سید نا حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے مندرجہ بالا جملہ اراکین مجلس انتخاب خلافت کے کام کے لئے حسب ذیل دستور العمل منظور فرمایا ہے:۔مجلس انتخاب خلافت کے جو اراکین مقرر کئے گئے ہیں۔اُن میں سے بوقت انتخاب حاضر افراد انتخاب کرنے کے مجاز ہوں گے۔غیر حاضر افراد کی غیر حاضری اثر انداز نہ ہوگی اور انتخاب جائز ہوگا۔ب۔انتخاب خلافت کے وقت اور مقام کا اعلان کرنا مجلس شوری کے سیکرٹری اور ناظر اعلیٰ کے ذمہ ہو گا۔اُن کا فرض ہوگا کہ موقع پیش آنے پر فوراً مقامی اراکین مجلس انتخاب کو اطلاع دیں۔بیرونی جماعتوں کو تاروں کے ذریعہ اطلاع دی جائے۔اخبار الفضل میں بھی اعلان کر دیا جائے۔ج۔نئے خلیفہ کا انتخاب مناسب انتظار کے بعد چوبیس گھنٹے کے اندر اندر ہونا چاہئے مجبوری کی صورت میں زیادہ سے زیادہ تین دن کے اندر انتخاب ہونا لازمی۔ہے۔