خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 644
خطابات شوری جلد سوم ۶۴۴ مجلس مشاورت ۱۹۵۷ء اظہار کیا کہ یہ مسلم جماعت کے لئے نیز اسلام کی حفاظت اور ترقی کے لئے نہایت ضروری ہے۔حضرت خلیفہ امسیح الاوّل کی وفات کے بعد خلافت ثانیہ کا دور شروع ہوا تو اللہ تعالیٰ نے ایک بار پھر یہ امر ثابت کر دیا کہ جماعت کے انتظام، اس کی ترقی اور اشاعت کے لئے خلافت کا وجود نہایت ضروری ہے۔پچھلے ۴۵ سال کا دور ہماری نظر کے سامنے سے گزرا ہے اور ہم نے مشاہدہ کیا ہے کہ کس طرح خلافت کے افضال اور برکات جماعت پر نازل ہوئی ہیں۔حي و قیوم صرف خدا تعالیٰ کی ذات ہے۔ہر انسان جو اس دنیا میں پیدا ہوا ہے اُس نے ایک نہ ایک دن اس دنیا سے رخصت ہونا ہے۔اللہ تعالیٰ ہمارے پیارے امام کو لمبی اور صحت والی زندگی عطا فرمائے لیکن یہ مسئلہ جماعت کے لئے انتہائی قابلِ توجہ ہے تا آئندہ جماعت میں تشقت اور تفرقہ کی کوئی صورت پیدا نہ ہو۔جماعت کے احباب کو علم ہے کہ بعض فتنہ پردازوں نے ایک گروہ بنا کر فتنہ پیدا کرنے کی کوشش کی ہے اور اللہ تعالیٰ کا بڑا احسان ہے کہ اُس نے ۱۹۵۶ء میں حضرت خلیفة المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز پر منکشف فرمایا کہ بعض لوگ جاہ طلبی کی وجہ سے جماعت کے انتظام کو توڑنے اور اس پر قبضہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔حضور نے بیماری کے باوجود نہایت ہمت اور محنت سے اس فتنہ کی سرکوبی فرمائی اور آپ سب لوگ اس بات کے گواہ ہیں کہ خدا تعالیٰ نے کس قدر آپ کی مدد اور نصرت فرمائی۔حضور نے واضح فرمایا ہے کہ خلیفہ خدا ہی مقرر فرماتا ہے اس کے لئے کوشش کرنا نا جائز ہے۔خلافت ایک مقدس امانت ہے اور جماعت کا فرض ہے کہ وقت آنے پر نئے خلیفہ کا انتخاب کرے لیکن ان جاہ طلب اور فتنہ پرداز لوگوں کو مایوس کرنے اور جماعت میں اتحاد کو مستحکم کرنے کے لئے یہ ضروری ہے کہ وہ ابھی سے خلافت کے انتخاب کے متعلق کوئی قطعی فیصلہ کرے۔“ مکرم مولوی صاحب نے اپنی تقریر جاری رکھتے ہوئے فرمایا: - ” تازہ حالات سے معلوم ہوتا ہے کہ مخالفین خلافت احمد یہ ابھی تک اپنی کوششوں میں سرگرم ہیں اور ہر رنگ میں جماعت میں تفرقہ پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اس لئے جماعت کے ہر فر کو چاہئے کہ وہ ہر وقت بیدار رہے۔تا کہ دشمن اپنے منصوبہ اور سازش میں