خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 635
خطابات شوری جلد سوم ۶۳۵ رت ۱۹۵۶ء ایک کمیٹی مقرر کر دی جائے جو دونوں سوالوں پر غور کرے۔علیحدہ علیحدہ کمیٹیاں مقرر کرنے کی ضرورت نہیں۔اب ان امور پر اس اجلاس میں بحث کرنے کی ضرورت نہیں کمیٹی بیٹھے گی اور ان امور پر غور کر لے گی اور اس کی سفارشات پر صدر انجمن احمد یہ غور کرے گی۔باقی اصل چیز یہ ہے کہ ہمیں تو نسخہ قرآن کریم نے بتا دیا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔تهران نَفَعَتِ الذكرى یعنی تم تحریک کرتے جاؤ ایک نہ ایک دن وہ تحریک ضرور کامیاب ہو گی۔خالی میرے خطبات کافی نہیں۔جب لڑکے پڑھتے ہیں تو کئی لڑکے ایک دفعہ بات سن کر متاثر ہوتے ہیں، کئی دو دفعہ بات سن کر متاثر ہوتے ہیں اس لئے اگر میں ایک یا دو خطبات میں کسی امر کی تحریک کروں تو اُس کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔چاہئے تھا کہ اساتذہ لوگوں سے درخواست کرتے کہ وہ طلباء کو جامعہ احمدیہ میں داخل ہونے کے لئے تحریک کریں اور اُن کے دلوں میں دینی علوم حاصل کرنے کا شوق پیدا کریں لیکن اُنہوں نے اس طرف توجہ نہیں کی حالانکہ دُنیا میں یہی طریق رائج ہے کہ اصلاح کے قابل لوگوں تک پہنچ کر اُن کی اصلاح کی جاتی ہے۔جیل خانہ جات میں بھی لوگ جاتے ہیں اور قیدیوں کو اخلاق کی طرف توجہ دلاتے ہیں۔سکول اور کالج میں اس کا انتظام کیا جائے اور علماء بھی اس طرف توجہ کریں۔وہ ہیڈ ماسٹر صاحب اور پرنسپل صاحب کو ملیں اور اُن سے کہیں کہ وہ انہیں طلباء سے مل کر انہیں دینی تعلیم کی عظمت بتانے کا موقع دیں۔اگر ایسا ہو جائے تو طلباء میں جوش پیدا ہو جائے اور بہت سے لڑکے جامعہ احمدیہ میں تعلیم حاصل کرنے کے لئے آجائیں گے۔پچھلے دنوں میں نے چند خطبات پڑھے ہیں ان کی وجہ سے کئی لوگوں نے اپنی زندگی وقف کی ہے۔ایک دوست کا خط آیا ہے کہ اس نے اپنے میٹرک پاس لڑکے سے زندگی وقف کرنے کا ذکر کیا اور وہ جامعہ احمدیہ میں آنے کو تیار ہے۔اسی طرح ایک اور بی۔اے کے طالب علم کی طرف سے بھی خط آیا ہے اور بھی کئی لوگوں کے خطوط آئے ہیں اس لئے کوئی وجہ نہیں کہ تحریک کی جائے اور اس کا کوئی اثر نہ ہو۔ضرورت ہے کہ انہیں بار بار تحریک کی جائے اور علماء اپنی ذمہ داری کو سمجھیں۔وہ یہ خیال نہ کریں کہ میں نے خطبہ پڑھ دیا ہے اس لئے مزید تحریک کی ضرورت نہیں۔وہ ہیڈ ماسٹر اور پرنسپل سے مل کر طلباء کو دینی تعلیم