خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 634
خطابات شوری جلد سوم ۶۳۴ رت ۱۹۵۶ء میں انہیں یہی جواب دیتا ہوں کہ میری بیماری جناتی قسم کی ہے۔احادیث میں جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر جادو ہو جانے کے متعلق روایت آتی ہے اُس کی وجہ بھی درحقیقت یہی تھی کہ یہودی خواہش رکھتے تھے کہ آپ فوت ہو جائیں اور اُن کے اندر یہ خواہش اتنی شدت اختیار کر گئی کہ اُس کا آپ کی طبیعت پر بھی اثر گیا۔میری بیماری کی وجہ بھی یہی تھی چنانچہ میں نے خواب میں اُس عورت سے یہی کہا کہ پہلے تو میں نا واقف تھا اس لئے تمہاری توجہ کا اثر ہو گیا، اب توجہ کرو تو میں جانوں۔پھر میں نے اُس کی اُنگلی پر توجہ کی تو وہ اکٹر گئی اور اُس کی ایسی حالت ہوگئی کہ وہ ادھر اُدھر مڑتی نہیں تھی۔دوسرے شخص نے بھی اس کی انگلی مروڑی تو وہ نہ مڑی۔بہر حال میری طبیعت ایسی ہے کہ اگر صبح کو اچھی ہوتی ہے تو شام کو خراب ہو جاتی ہے۔میں نے خطبہ میں بھی بیان کیا تھا کہ میری حالت عجیب ہے اگر میں کہتا ہوں کہ میں اچھا ہوں تو پچاس آدمیوں کے نام ملاقات کے لئے آجاتے ہیں اور اگر میں یہ کہوں کہ میں بیمار ہوں تو یہ جھوٹ ہوتا ہے کیونکہ اُس وقت میں تندرست ہوتا ہوں۔ویسے ملاقات ہوتی رہتی ہے اور تفسیر کا کام بھی کر رہا ہوں لیکن آنے والے تھوڑا وقت لیں اور میری صحت کا خیال رکھیں تو کوئی حرج نہیں لیکن آنے والے سمجھتے ہیں کہ آج ہی ساری کسر پوری کر لی جائے۔ڈاکٹر تو ہمیشہ یہی کہتے ہیں کہ آپ کی طبیعت بالکل اچھی ہے لیکن ساتھ ہی یہ کہتے ہیں کہ اچھا ہونا آپ کے اختیار میں ہے۔کام کا یہ حال ہے کہ میں نے سیر روحانی کی تین تقریریں ٹھیک کروا دی ہیں۔سورۃ کافرون کی تفسیر ہو چکی ہے اور سورۃ مریم اور طہا کے نوٹ لکھوا رہا ہوں۔احباب دُعا کریں کہ اللہ تعالیٰ مجھے قرآن کریم کی تفسیر کا کام پورا کرنے کی توفیق دیدے اور میرا اگلا سال اس سال سے بہتر ہو۔اب چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کام کرائیں گے میں واپس جاتا ہوں۔“ نوجوانوں کو جامعہ احمدیہ میں داخل ہونے کی تحریک مشاورت میں یہ سوال زیر بحث آیا کہ جامعہ احمدیہ میں طلباء کے داخلہ کی کمی کیسے دور کی جائے۔اس بارہ میں ممبران کے اظہار خیال کے بعد حضور نے فرمایا : -